مذاکرات کرنے ہیں تو پہلے اعتماد کی فضا پیدا کرنا ہوگی: چیرمیین پی ٹی ائی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ائی) کے چیرمیین بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا ہے کہ اگر واقعی سیاسی مذاکرات کو آگے بڑھانا مقصد ہے تو اس کے لیے سب سے پہلے اعتماد سازی ناگزیر ہے اور اعتماد کی فضا اسی وقت قائم ہو سکتی ہے جب بانیٔ پی ٹی آئی کو ان کے اہلِ خانہ اور جماعتی قیادت سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیرمیین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف ماضی میں بھی مذاکرات کی حامی رہی ہے اور آج بھی بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے گئے، مذاکرات بیانات سے نہیں بلکہ اعتماد بحال کرنے والے فیصلوں سے ہی آگے بڑھا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت مذاکرات سے متعلق ذمہ داری محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کے پاس ہے، تاہم مذاکرات اسی صورت بامقصد ثابت ہو سکتے ہیں جب سنجیدگی کے ساتھ عملی اقدامات کیے جائیں۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کو ان کے اہلِ خانہ اور پارٹی قیادت سے ملاقات کی سہولت دی جائے، اسی طرح بشریٰ بی بی کو بھی ان کے خاندان سے ملنے دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگلے ہفتے ملاقات کا باقاعدہ دن مقرر ہے اور امید ہے کہ اس بار یہ ملاقات یقینی بنائی جائے گی، کیونکہ ایسے اقدامات کے بغیر مذاکرات کا عمل محض رسمی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔
دوسری جانب راولپنڈی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کے سینئر رہنما سلمان اکرم راجا نے مذاکرات کے حوالے سے حکومتی طرزِ عمل پر سخت تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ حکومت اپوزیشن سے رابطے میں ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں، کراچی سمیت مختلف شہروں میں عوامی ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ موجودہ نظام سے بیزار ہو چکے ہیں اور اس کے خلاف کھڑے ہیں۔
سلمان اکرم راجا نے مزید کہا کہ خود حکومتی اداروں کے جاری کردہ اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے، یہ سب کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم نظام کا حصہ ہے، جس کے تحت بے گناہ افراد کو سزائیں دی جاتی ہیں اور پھر برسوں تک ان کی اپیلیں نہیں سنی جاتیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک انصاف، شفافیت اور آئینی بالادستی کو یقینی نہیں بنایا جاتا، محض مذاکرات کا شور عوام کو مطمئن نہیں کر سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔