یمن میں سیاسی تبدیلی، وزیر اعظم سالم صالح بن بریک مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
یمن کے وزیراعظم سالم صالح بن بیرک نے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد ملک کے وزیر خارجہ کو نیا وزیر اعظم مقرر کردیا گیا، یہ اعلان سعودی حمایت یافتہ صدارتی قیادت کونسل کی جانب سے کیا گیا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم سالم صالح بن بریک نے صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین رشاد العلیمی سے ملاقات کے دوران حکومت کا استعفیٰ پیش کیا تاکہ نئی حکومت کی تشکیل کی راہ ہموار کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: یمن کی علیحدگی پسند تنظیم سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے تحلیل ہونے کا اعلان کر دیا
بعد ازاں صدارتی قیادت کونسل نے اعلان کیا کہ وزیر خارجہ ڈاکٹر شائع محسن زندانی کو نیا وزیر اعظم مقرر کردیا گیا ہے اور انہیں نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
بیان میں وزیراعظم کے استعفے کی وجوہات میں ریاستی اداروں کی بحالی، خودمختار فیصلوں میں یکجہتی کو مضبوط بنانا اور بغاوت کو شکست دینا شامل بتایا گیا ہے۔
صدارتی قیادت کونسل کے مطابق نئی حکومت کے قیام تک موجودہ حکومت روزمرہ امور انجام دیتی رہے گی، تاہم اس دوران تقرریوں اور برطرفیوں سے گریز کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یمن کے معاملے پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی دانشمندی کو سراہتے ہیں، ترجمان دفتر خارجہ
گزشتہ ماہ متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند تنظیم جنوبی عبوری کونسل نے ان علاقوں میں اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا تھا اور سعودی عرب کی سرحد کے قریب تک پیش قدمی کی تھی۔
سعودی عرب نے اس پیش رفت کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی یمن کے سیاسی مستقبل پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news استعفی صدارتی قیادت کونسل وزیراعظم وزیراعظم سالم صالح بن بریک وزیرخارجہ یمن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استعفی صدارتی قیادت کونسل وزیراعظم سالم صالح بن بریک صدارتی قیادت کونسل سالم صالح بن یمن کے
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔