یمن کے وزیراعظم مستعفی، وزیر خارجہ ملک کے نئے پرائم منسٹر مقرر
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
صنعاء (انٹرنیشنل ڈیسک) یمن کے وزیراعظم سالم صالح بن بریک نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق یمن کی صدراتی قیادت کی کونسل نے وزیر اعظم سالم صالح بن بریک کا استعفیٰ قبول کر لیا، جس کے بعد وزیر خارجہ ڈاکٹر شائع محسن الزندانی کو ملک کا نیا وزیر اعظم مقرر کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ دسمبر میں متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ علیحدگی پسند گروپ، جنوبی عبوری کونسل نے یمن کے جنوبی اور مشرقی علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔
اس اہم ڈویلپمنٹ کے بعد علیحدگی پسند گروپ سعودی عرب کی سرحد کے قریب پہنچ گئے تھے، جسے سعودی عرب نے اپنی قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔