انتہا پسندی کے سدباب کیلیے قائم قومی پیغام امن کمیٹی کی مختصر عرصے میں نمایاں سرگرمیاں
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2026 GMT
انتہا پسندی و فرقہ واریت کے فکری و عملی سدباب کے لیے قائم قومی پیغامِ امن کمیٹی نے مختصر عرصے میں نمایاں سرگرمیاں دکھائی ہیں۔
قومی پیغام امن کمیٹی کے ذریعے تمام مسالک و اقلیتیوں کو ایک قومی پلیٹ فارم مہیا کرنا اہم مقصد تھا۔ 16 ستمبر 2025 کو پہلے اجلاس میں اسلامی اصولوں کی روشنی میں جامع قومی بیانیہ کی تشکیل اور نفرت انگیز و پُرتشدد بیانیوں کے خلاف ریاستی معاونت کا فریم ورک طے ہوا۔
پیغامِ پاکستان کو مرکزی قومی بیانیہ بنانے، سماجی ہم آہنگی کے فروغ اور حقائق پر مبنی مثبت پیغام رسانی کے ذریعے سلامتی اقدامات مضبوط بنانے کے اہداف مقرر ہوئے۔
قومی پیغامِ امن کمیٹی کی 12 اور 13 جنوری کو وفاقی وزیر اطلاعات اور ڈی جی آئی ایس پی آر سے اہم اور تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں۔ ملاقاتوں میں ضلعی سطح پر کمیٹیوں کے قیام، مدارس کے نصاب میں قومی بیانیے کی شمولیت اور میڈیا کے مؤثر استعمال پر اتفاق کیا گیا۔
رمضان المبارک میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ، فرقہ وارانہ مواد کے فوری تدارک اور سوشل میڈیا پر ریاست مخالف بیانیوں کے مقابلے کے لیے خصوصی ٹیم کی منظوری دی گئی۔
آئندہ جمعہ کو یومِ پیغامِ پاکستان اور پیغامِ پاکستان ویک منانے کا اعلان کیا گیا، جمعہ خطبات میں قومی بیانیہ کے نکات شامل کرنے کی سفارش کی گئی۔
دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس، فتنۃ خوارج و افغان طالبان کی کارروائیوں کی مذمت اور ریاست دشمن پروپیگنڈے کے خلاف مشترکہ بیانیے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔ کشمیر و غزہ پر پاکستان کے اصولی مؤقف کی توثیق، مساجد، مدارس اور جامعات میں آگاہی نشستیں بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
کمیٹی کا 14 جنوری کو خیبر پختونخوا کا پہلا باضابطہ دورہ کیا اور گورنر فیصل کریم کنڈی سے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات ہوئی۔ گورنر سے ملاقات میں متفقہ اعلان کیا گیا کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور پیغامِ پاکستان آئین کے بعد سب سے مضبوط قومی دستاویز ہے۔
افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاستِ پاکستان اور اس کے اداروں کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
قومی پیغامِ امن کمیٹی نے کور کمانڈر پشاور سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں خوارج کے نظریے کو فکری سطح پر شکست دینے، داخلی سہولت کاری کے خاتمے اور پیغامِ پاکستان کو نصاب و مذہبی لٹریچر کا حصہ بنانے پر زور دیا گیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل قومی پیغام امن کمیٹی کیا گیا
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔