قومی پیغامِ امن کمیٹی کی اپیل پر ملک بھر میں یومِ پیغامِ پاکستان منایا گیا، جس کے تحت کراچی سے خیبر تک تمام مکاتبِ فکر کے علما، مشائخ، ائمہ، خطبا، ذاکرین اور واعظین نے جمعۃ المبارک کے اجتماعات میں دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے ریاستِ پاکستان، اس کے اداروں اور افواجِ پاکستان سے مکمل یکجہتی کا اعلان کیا۔

علما کرام نے خطباتِ جمعہ میں عوام کو ’پیغامِ پاکستان‘ کے متفقہ فتویٰ اور قومی بیانیے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کا دہشتگردی اور قتل و غارت گری سے کوئی تعلق نہیں۔ جو عناصر اسلام کے نام پر فساد برپا کر رہے ہیں وہ اسلام کے باغی، خارجی اور جہنم کا ایندھن ہیں۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم سے قومی پیغامِ امن کمیٹی کی ملاقات، دہشتگردی کے خلاف قومی ہم آہنگی پر زور

علما نے قرآن و حدیث کی روشنی میں اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان ایک اسلامی، آئینی ریاست ہے اور اس کی افواج، ریاستی اداروں، علما، شہریوں اور غیر مسلم اقلیتوں پر حملے شرعاً حرام اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کی کھلی نافرمانی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے باغی عناصر کے خلاف جنگ میں تمام مکاتبِ فکر کے علما ماضی میں بھی ریاست کے ساتھ کھڑے تھے، آج بھی کھڑے ہیں اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے۔

قومی پیغام امن کمیٹی کی اپیل پر ملک میں یوم پیغام پاکستان منایا گیا
کراچی سے خیبر تک تمام مکاتب فکر کے علماء ومشائخ ، ائمہ و خطباء ، ذاکرین وواعظین وطن عزیز پاکستان کی سلامتی و استحکام کیلئے، دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے ریاست پاکستان کے شانہ بشانہ ہیں۔@alihamzaisb pic.

twitter.com/YqIeiPCHPV

— Media Talk (@mediatalk922) January 16, 2026

علماء کرام نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کو ملک کے امن و استحکام کے لیے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ دین اور وطن کے تحفظ کے لیے وہ ریاست، حکومت، افواجِ پاکستان اور سلامتی کے اداروں کے شانہ بشانہ ہیں، جبکہ کسی بھی غیر شرعی اقدام پر اعلائے کلمۂ حق سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

خطبات میں کہا گیا کہ گزشتہ دہائیوں میں پاکستان کو جن بڑے چیلنجز کا سامنا رہا، ان میں مذہب کے نام پر انتہاپسندی، دہشتگردی اور فرقہ واریت سرفہرست ہیں۔ انہی حالات کے تناظر میں ریاستِ پاکستان اور تمام مکاتبِ فکر کے جید علما کے اتفاقِ رائے سے ’قومی پیغامِ پاکستان‘ وجود میں آیا، جو محض ایک اعلامیہ نہیں بلکہ ایک جامع فکری دستاویز ہے جو اسلامی تعلیمات، آئینِ پاکستان اور ریاستی خودمختاری کی روشنی میں تشدد اور بغاوت کی واضح نفی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: قومی پیغام امن کمیٹی کا جمعہ کو ’پیغام امن‘ کے طور پر منانے کا اعلان

علما نے کہا کہ دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث، شیعہ اور دیگر مکاتبِ فکر کے ممتاز علما کے دستخطوں سے اس بات کی توثیق ہو چکی ہے کہ پاکستان میں مذہب کے نام پر کسی بھی قسم کا مسلح تشدد آئینی طور پر ناجائز اور شرعاً حرام ہے۔ اسلام انسانی جان کے تحفظ کو بنیادی اہمیت دیتا ہے اور کسی فرد یا گروہ کو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا کوئی حق حاصل نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جہاد کا اعلان، قانون سازی اور نظمِ اجتماعی کے تمام اختیارات صرف ریاست کے پاس ہیں، کسی تنظیم یا فرد کی جانب سے خودساختہ جہاد یا قتال کھلی بغاوت کے مترادف ہے۔ علما نے تکفیر، نفرت انگیز تقاریر اور مسلکی تعصبات کو امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے زہرِ قاتل قرار دیتے ہوئے باہمی احترام، مکالمے اور رواداری کے فروغ پر زور دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

قومی پیغام امن کمیٹی یومِ پیغامِ پاکستان

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: قومی پیغام امن کمیٹی یوم پیغام پاکستان دہشتگردی اور امن کمیٹی کی قومی پیغام تمام مکاتب پیغام امن کے خلاف فکر کے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی

اسلام آباد:

سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔

سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔

کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔

سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔

اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف