ملک میں بیہودگی اور غیر اخلاقی مواد سرفہرست، 10 لاکھ 61 ہزار سے زاید لنکس بلاک
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260117-08-24
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے کریک ڈاون سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کروادی جس کے مطابق ملک بھر میں بیہودگی اور اخلاقیات کے خلاف مواد سرفہرست ہے۔ رپورٹ کے مطابق غیرقانونی ڈیجیٹل مواد پھیلانے پر ایک ملین سے زاید ویب لنکس اور یو آر ایل بلاک کیے گئے جن میں فیس بک اور ٹک ٹاک پر غیرقانونی اور نامناسب مواد شیئرکرنے پرسب سے زیادہ بلاکنگ کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پی ٹی اے نے فیس بک کے 2 لاکھ 29 ہزار لنکس چیک کرکے رپورٹ کیے اور ایک لاکھ97 ہزار بلاک ہوئے، انسٹاگرام پر43 ہزار یو آر ایل چیک کیے گئے جس کے بعد 38 ہزار بند کردیے گئے، اس کا بلاکنگ ریٹ 87 فیصد رہا۔ رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک کے ایک لاکھ 74 ہزار سے زاید غیرقانونی مواد کے لنکس چیک کیے گئے، ایک لاکھ 63 ہزار سے زاید ٹک ٹاک وڈیوز کے لنکس بند کیے گئے، ٹک ٹاک پر سب سے سخت کریک ڈاؤن ہوا اور 94 فیصد مواد بلاک ہوا۔اسی طرح یوٹیوب پر 72 ہزار لنکس کی جانچ پڑتال کی گئی جن میں 64 ہزار سے زاید لنکس بلاک کیے گئے، ایکس کے ایک لاکھ 12 ہزار سے زاید لنکس چیک کیے گئے جن میں سے70 ہزار 800 لنکس بلاک کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق ایکس پر بلاکنگ ریٹ سب سے کم رہا جہاں صرف 62 فیصد مواد بلاک کیا جاسکا جب کہ دیگر مختلف پلیٹ فارمز پر8 لاکھ 98 ہزار لنکس کی چیکنگ کی گئی جس میں سے 8 لاکھ 91 ہزار لنکس بلاک کردیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق توہین عدالت، بیہودگی، مذہب کے خلاف، پراکسی اور نفرت انگیز مواد کے14 لاکھ سے زاید لنکس اور یو آر ایل بند کیے گئے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ریاست اور دفاع پاکستان کے خلاف ایک لاکھ 48 ہزار لنکس بلاک کیے گئے، مذہب کے خلاف مواد پر ایک لاکھ 9 ہزار سے زاید لنکس بند کیے گئے جب کہ فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز مواد پر 76 ہزار لنکس بلاک کیے گئے۔اس کے علاوہ ہتک عزت اور جعلی شناخت سے متعلق مواد پر بلاکنگ ریٹ سب سے کم رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہزار سے زاید لنکس لنکس بلاک کیے گئے رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ کے خلاف ٹک ٹاک
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔