data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260117-08-24

 

 

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)  پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی نے کریک ڈاون سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کروادی جس کے مطابق ملک بھر میں بیہودگی اور  اخلاقیات کے خلاف مواد سرفہرست ہے۔ رپورٹ کے مطابق غیرقانونی ڈیجیٹل مواد پھیلانے پر ایک ملین سے زاید ویب لنکس اور یو آر ایل بلاک کیے گئے جن میں فیس بک اور ٹک ٹاک پر غیرقانونی اور نامناسب مواد شیئرکرنے پرسب سے زیادہ بلاکنگ کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پی ٹی اے نے فیس بک کے 2 لاکھ 29 ہزار لنکس چیک کرکے رپورٹ کیے اور ایک لاکھ97 ہزار بلاک ہوئے، انسٹاگرام پر43 ہزار یو آر ایل چیک کیے گئے جس کے بعد 38 ہزار بند کردیے گئے، اس کا بلاکنگ ریٹ 87 فیصد رہا۔ رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک کے ایک لاکھ 74 ہزار سے زاید  غیرقانونی مواد کے لنکس چیک کیے گئے، ایک لاکھ 63 ہزار سے زاید ٹک ٹاک وڈیوز کے لنکس بند کیے گئے، ٹک ٹاک پر سب سے سخت کریک ڈاؤن ہوا اور 94 فیصد مواد بلاک ہوا۔اسی  طرح یوٹیوب پر 72 ہزار لنکس کی جانچ پڑتال کی گئی جن میں 64 ہزار سے زاید لنکس بلاک کیے گئے، ایکس کے ایک لاکھ 12 ہزار سے زاید لنکس چیک کیے گئے جن میں سے70 ہزار 800 لنکس بلاک کیے گئے۔رپورٹ کے مطابق ایکس پر بلاکنگ ریٹ سب سے کم رہا جہاں صرف 62 فیصد مواد بلاک کیا جاسکا جب کہ دیگر مختلف پلیٹ فارمز پر8 لاکھ 98 ہزار لنکس کی چیکنگ کی گئی جس میں سے 8 لاکھ 91 ہزار لنکس بلاک کردیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق توہین عدالت، بیہودگی، مذہب کے خلاف، پراکسی اور نفرت انگیز مواد کے14 لاکھ سے زاید لنکس اور یو آر ایل بند کیے گئے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ریاست اور دفاع پاکستان کے خلاف ایک لاکھ 48 ہزار لنکس بلاک کیے گئے، مذہب کے خلاف مواد پر ایک لاکھ 9 ہزار سے زاید لنکس بند کیے گئے جب کہ  فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز مواد پر 76 ہزار لنکس بلاک کیے گئے۔اس کے علاوہ ہتک عزت اور جعلی شناخت سے متعلق مواد پر بلاکنگ ریٹ سب سے کم رہی۔

مانیٹرنگ ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہزار سے زاید لنکس لنکس بلاک کیے گئے رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ کے خلاف ٹک ٹاک

پڑھیں:

سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم

کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔

متعلقہ مضامین

  • دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق