Daily Mumtaz:
2026-07-24@09:00:39 GMT

شاہد آفریدی کراچی چھوڑ کر مستقل طور پر اسلام آباد منتقل

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

شاہد آفریدی کراچی چھوڑ کر مستقل طور پر اسلام آباد منتقل

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کراچی چھوڑ کر مستقل طور پر اسلام آباد منتقل ہونے کی تصدیق کردی۔

شاہد آفریدی نے چند ذاتی وجوہات کے سبب کراچی چھوڑ کر مستقل طور پر اسلام آباد منتقل ہونے کی تصدیق کی ہے۔

اسلام آباد میں اپنی نئی رہائش گاہ پر نجی خبررساں ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پالیسیوں میں تسلسل، جمہوری عمل میں تسلسل اور ریاستی اداروں میں آئینی مدت کی تکمیل ہی ترقی کی مضبوط بنیاد بنتی ہے۔

پاکستان کی سیاست پر شاہد آفریدی کی رائے
وہ بولے کہ ریاستی ادارے اپنی مدت مکمل کریں گے تو پالیسیاں برقرار رہیں گی اور ترقی کے ثمرات جلد عام آدمی تک پہنچیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک دیکھنا چاہتا ہوں، مگر اس کے لیے سب سے بنیادی عنصر تسلسل ہے۔

بوم بوم سیاسیت میں آئیں گے یا نہیں؟
شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستان اور پاکستان کرکٹ نے دنیا بھر میں عزت، مقام اور شناخت دی۔ میری خواہش ہے کہ اب پاکستان کرکٹ اور ملک کو کچھ واپس لوٹا سکوں، میں فی الحال سیاست میں نہیں آرہا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل کرنی چاہیے۔ چیف جسٹس اور آرمی چیف سمیت تمام اہم آئینی عہدوں پر فائز شخصیات کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے دی جانی چاہیے۔

حکومتی عہدوں کی پیشکش پر شاہد آفریدی کا ردعمل
شاہد آفریدی نے مزید کہا کہ ماضی میں اہم حکومتی عہدوں کی پیشکش کی گئی مگر ہمیشہ ایسی ذمہ داریوں سے گریز کیا، محض رسمی عہدے میرے لیے کوئی کشش نہیں رکھتے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: شاہد ا فریدی نے اسلام ا باد کہا کہ

پڑھیں:

قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت

وفاقی آئینی عدالت میں اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیے۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ عدالت نے کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا، ماریہ شہباز کم عمر ہے اسے ورغلا کر مذہب تبدیلی کرائی گئی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی  نے استفسار کیا کہ عمر کم بھی ہو تو ایک شادی اگر ہوجائے تو قانون میں اس کا حل کیا ہے؟ وکیل درخواست گزار  نے جواب دیا کہ شادی کیلئے 18 سال کی عمر کا قانون ہے، قانون کی خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، بچی نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے آئینی عدالت تک کہیں نہیں کہا کہ اس کیساتھ زبردستی ہوئی، 
آپ کا اسرار ہے تو اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل سے معاونت لے لیتے ہیں۔

عدالت نے مقدمہ کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔

آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کی والد کو حوالگی کی درخواست خارج کی تھی، عدالت نے قرار دیا تھا کہ بچی کے تنسیخ نکاح کیلئے سول کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق حبس بیجا اور حوالگی کے کیس میں تنسیخ نکاح کی کارروائی نہیں ہوسکتی

متعلقہ مضامین

  • قانون میں کم عمری کی شادی کیخلاف سزا کا ذکر ہے نکاح منسوخی کا نہیں، جج آئینی عدالت
  • جوز بٹلر نے ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا