شاہد آفریدی کراچی چھوڑ کر مستقل طور پر اسلام آباد منتقل
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کراچی چھوڑ کر مستقل طور پر اسلام آباد منتقل ہونے کی تصدیق کردی۔
شاہد آفریدی نے چند ذاتی وجوہات کے سبب کراچی چھوڑ کر مستقل طور پر اسلام آباد منتقل ہونے کی تصدیق کی ہے۔
اسلام آباد میں اپنی نئی رہائش گاہ پر نجی خبررساں ادارے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پالیسیوں میں تسلسل، جمہوری عمل میں تسلسل اور ریاستی اداروں میں آئینی مدت کی تکمیل ہی ترقی کی مضبوط بنیاد بنتی ہے۔
پاکستان کی سیاست پر شاہد آفریدی کی رائے
وہ بولے کہ ریاستی ادارے اپنی مدت مکمل کریں گے تو پالیسیاں برقرار رہیں گی اور ترقی کے ثمرات جلد عام آدمی تک پہنچیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تیزی سے ترقی کرتا ہوا ملک دیکھنا چاہتا ہوں، مگر اس کے لیے سب سے بنیادی عنصر تسلسل ہے۔
بوم بوم سیاسیت میں آئیں گے یا نہیں؟
شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستان اور پاکستان کرکٹ نے دنیا بھر میں عزت، مقام اور شناخت دی۔ میری خواہش ہے کہ اب پاکستان کرکٹ اور ملک کو کچھ واپس لوٹا سکوں، میں فی الحال سیاست میں نہیں آرہا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنی 5 سالہ آئینی مدت مکمل کرنی چاہیے۔ چیف جسٹس اور آرمی چیف سمیت تمام اہم آئینی عہدوں پر فائز شخصیات کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے دی جانی چاہیے۔
حکومتی عہدوں کی پیشکش پر شاہد آفریدی کا ردعمل
شاہد آفریدی نے مزید کہا کہ ماضی میں اہم حکومتی عہدوں کی پیشکش کی گئی مگر ہمیشہ ایسی ذمہ داریوں سے گریز کیا، محض رسمی عہدے میرے لیے کوئی کشش نہیں رکھتے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شاہد ا فریدی نے اسلام ا باد کہا کہ
پڑھیں:
بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔
علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔
مزید پڑھیںاڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے
علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔