ثنا خان کا شوبز چھوڑنے اور خفیہ شادی سے متعلق چونکا دینے والا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
بھارتی فلم اور ٹی وی انڈسٹری کی سابق اداکارہ ثنا خان نے شوبز چھوڑنے اور اپنی ذاتی زندگی میں آنے والی بڑی تبدیلیوں پر ایک بار پھر کھل کر گفتگو کی ہے۔
حال ہی میں اداکارہ رشمی ڈیسائی کے ساتھ ایک گفتگو میں ثنا خان نے بتایا کہ شوبز سے کنارہ کشی اور شادی کا پورا سفر انہوں نے دانستہ طور پر نجی رکھتے ہوئے عوامی توجہ سے دور رہنے کو ترجیح دی۔
ثنا خان نے بتایا کہ 2020 میں، جب ان کا کیریئر عروج پر تھا، انہوں نے انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کیا۔
ان کے مطابق اس فیصلے کی بنیاد انسانیت کی خدمت اور اپنے خالق کے احکامات پر عمل کرنا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے اسلامی اسکالر مفتی انس سید سے شادی کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: آخری سفر پر جانے سے پہلے جنید جمشید نے کیا کہا، اہلیہ نے پہلی مرتبہ بتادیا
انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کی شادی انتہائی رازداری میں انجام پائی اور اس حوالے سے صرف ان کے والدین کو ہی علم تھا۔
ثنا خان کے مطابق نکاح طے ہونے کے بعد بھی دلہے کا نام کسی کو معلوم نہیں تھا، یہاں تک کہ مہندی لگاتے وقت مہندی لگانے والی نے جب دلہے کا نام پوچھا تو انہوں نے نام خالی چھوڑنے کو کہا۔
Sana Khan denies she was ‘brainwashed’ by her husband to quit showbiz, talks about their ‘top secret’ weddinghttps://t.
— HT Entertainment (@htshowbiz) January 17, 2026
ثنا خان نے واضح کیا کہ شوبز چھوڑنے کا فیصلہ کسی دباؤ یا شوہر کے کہنے پر نہیں بلکہ ان کی اپنی اندرونی تبدیلی کا نتیجہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دوران وہ خود کو ایک بالکل مختلف انسان بنتے ہوئے محسوس کر رہی تھیں اور یہ تبدیلی ان کی ذاتی خواہش تھی، البتہ ان کے شوہر نے اس راستے میں ان کی رہنمائی ضرور کی۔
مزید پڑھیں: بھارتی اداکارہ ثنا خان نے خطروں کے کھلاڑی میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟
آن لائن تنقید اور اس تاثر کو بھی ثنا خان نے سختی سے مسترد کیا کہ ان کے شوہر نے ان کے فیصلوں پر اثر ڈالا۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی کو ’برین واش‘ نہیں کیا جا سکتا،۔ ’اصل تلاش اندرونی سکون کی ہوتی ہے، کیونکہ دولت، شہرت اور عزت کے باوجود انسان آخرکار سکون ہی ڈھونڈتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ وقت کے ساتھ انہوں نے زندگی کے کئی اہم سبق سیکھے، جس کے بعد وہ اپنے شوہر کے رشتے کو بے حد اہمیت دیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ وہ ان سے بہتر ساتھی کبھی نہیں پا سکتیں۔
ان کے بقول یہ فیصلہ مشکل ضرور تھا، مگر انہوں نے پورے یقین کے ساتھ اسے اختیار کیا۔
مزید پڑھیں: ’آپ مالدیپ میں عبایا پہن کر بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں’
ثنا خان نے یہ بھی بتایا کہ ان کے قریبی رشتہ دار بھی شادی سے لاعلم تھے اور جب پہلی بار ان کے شوہر کو مسجد میں دیکھا گیا تو اہلِ خانہ حیران رہ گئے۔
شادی کے انتظامات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ مہندی کے علاوہ نکاح، رہائش، کھانے اور ولیمے سمیت تمام اخراجات ان کے شوہر نے خود برداشت کیے۔
دوسری جانب اداکارہ زرین خان نے بھی حال ہی میں ثنا خان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ شوبز میں کام کے دوران بھی مذہبی رجحان رکھتی تھیں۔
زرین خان کے مطابق ایمان انسان اور خدا کے درمیان ایک ذاتی تعلق ہے، جسے دکھانے کی ضرورت نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلامی اسکالر بھارتی اداکارہ ثنا خان رشمی ڈیسائی شادی شوبز مفتی انس سید
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلامی اسکالر بھارتی اداکارہ رشمی ڈیسائی مفتی انس سید ان کے شوہر انہوں نے بتایا کہ کیا کہ
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔