Nawaiwaqt:
2026-07-24@07:10:05 GMT

بجلی 48 پیسے مہنگی ہونے کا خدشہ، صارفین پر نیا بوجھ

اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT

بجلی 48 پیسے مہنگی ہونے کا خدشہ، صارفین پر نیا بوجھ

بجلی صارفین پر مزید بوجھ پڑنے کا امکان ،ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ایک ماہ کے لیے بجلی 48 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ۔نیپرا کو جمع کرائی گئی درخواست کے مطابق دسمبر کے مہینے میں8ارب 48 کروڑ 70 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی۔ڈسکوز کو 8 ارب 20 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی۔سی پی پی اے کا کہنا ہے کہ دسمبر میں بجلی کی فی یونٹ لاگت 9 روپے 62 پیسے رہی۔ دسمبر میں ہائیڈل ذرائع سے18.

07 فیصد بجلی پیدا کی گئی، جبکہ مقامی کوئلے سے بجلی کی پیداوار 13.99 فیصد رہی۔اسی طرح درآمدی کوئلے سے 10.13 فیصد، قدرتی گیس سے 11.20 فیصد اور درآمدی گیس سے 17.24 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔  نیوکلیئر ذرائع سے دسمبر میں 25.05 فیصد بجلی پیدا ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔نیپرا اتھارٹی 29 جنوری کو سماعت کرے گی۔نیپرا کی جانب سے درخواست کی منظوری کی صورت میں بجلی صارفین کو ایک ماہ کے لیے اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: بجلی پیدا کی گئی

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم