انڈونیشیا میں چھوٹا مسافر طیارہ گر کر تباہ، تمام افراد لقمہ اجل بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
انڈونیشیا میں ایک علاقائی مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا، جس میں سوار تمام 11 افراد ہلاک ہو گئے۔ حادثے میں 3 مسافر اور 8 عملے کے ارکان شامل تھے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق طیارہ یوگیا کارتا سے مکاسر، جنوبی سولاویسی کے لیے روانہ ہوا تھا، تاہم قریباً 12 میل قبل ایئرپورٹ کے قریب ایئر ٹریفک کنٹرول سے اس کا رابطہ منقطع ہو گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق طیارے کے ملبے کے آثار ماروس ضلع کے پہاڑی علاقے لیانگ لیانگ میں دیکھے گئے ہیں۔
جائے حادثہ پر فوری طور پر سرچ اور ریسکیو ٹیمیں روانہ کی گئی ہیں، جہاں 60 اہلکار اور ماہرین بچاؤ اور ملبے کی تلاش میں مصروف ہیں۔
انڈونیشیا ایوی ایشن کے ڈائریکٹر کے مطابق طیارہ مقررہ اپروچ پر نہیں تھا اور ایئر ٹریفک کنٹرول نے اسے درست سمت میں لانے کی ہدایات دی تھیں، لیکن رابطہ ختم ہو جانے کے بعد ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انڈونیشیا تباہ مسافر طیارہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈونیشیا تباہ مسافر طیارہ وی نیوز
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔