ایران امریکا کشیدگی، مشرق وسطیٰ میں امریکی طیارہ بردار بیڑے کی نقل و حرکت
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگی خدشات کو ہوا دے دی ہے، جہاں امریکا نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی کو نمایاں طور پر بڑھاتے ہوئے طیارہ بردار جنگی بیڑا روانہ کر دیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق عالمی سفارتی حلقوں کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے اندر حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں اور واشنگٹن کی جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ بھی تیز ہو چکا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی چین کے سمندر میں تعینات طیارہ بردار جنگی بیڑا USS Abraham Lincoln مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔ یہ بیڑا اب امریکی سینٹرل کمانڈ کے دائرہ اختیار میں کام کرے گا، جو مشرق وسطیٰ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں امریکی فوجی آپریشنز کی نگرانی کرتی ہے۔
اس فیصلے کو ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک غیر معمولی اور اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
پینٹاگون کے مطابق اس جنگی بیڑے میں جدید طیارہ بردار جہاز کے ساتھ کروز میزائلوں سے لیس جنگی بحری جہاز، تباہ کن ڈسٹرائرز اور دیگر معاون جنگی کشتیاں بھی شامل ہیں، جو سمندر اور فضا دونوں میں کارروائی کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سطح کی بحری نقل و حرکت کسی بھی ممکنہ فوجی آپشن کی تیاری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری مظاہروں اور ان کے خلاف حکومتی کارروائی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا تمام ممکنہ آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال جاری رکھا تو امریکا بڑی اور شدید فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ ان بیانات کے بعد خطے میں بے چینی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایک طرف صدر ٹرمپ نے ایرانی عوام سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی ہے، تو دوسری جانب امریکی شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں، جسے سفارتی حلقے خطرے کی گھنٹی قرار دے رہے ہیں۔ امریکا کے اس دوہرے مؤقف نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکی دھمکیوں کے جواب میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اتحادی ممالک کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایرانی حکام نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر علاقائی ممالک کو پیغام دیا ہے کہ وہ امریکی فوجی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھیں کیونکہ کسی بھی کارروائی کے اثرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
عالمی مبصرین کے مطابق امریکی جنگی بیڑے کی مشرق وسطیٰ روانگی خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے اور اگر حالات مزید بگڑے تو اس کے نتائج نہ صرف ایران اور امریکا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: طیارہ بردار کے مطابق
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔