data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگی خدشات کو ہوا دے دی ہے، جہاں امریکا نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی کو نمایاں طور پر بڑھاتے ہوئے طیارہ بردار جنگی بیڑا روانہ کر دیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق عالمی سفارتی حلقوں کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے اندر حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں اور واشنگٹن کی جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ بھی تیز ہو چکا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی چین کے سمندر میں تعینات طیارہ بردار جنگی بیڑا USS Abraham Lincoln مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔ یہ بیڑا اب امریکی سینٹرل کمانڈ کے دائرہ اختیار میں کام کرے گا، جو مشرق وسطیٰ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں امریکی فوجی آپریشنز کی نگرانی کرتی ہے۔

اس فیصلے کو ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک غیر معمولی اور اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

پینٹاگون کے مطابق اس جنگی بیڑے میں جدید طیارہ بردار جہاز کے ساتھ کروز میزائلوں سے لیس جنگی بحری جہاز، تباہ کن ڈسٹرائرز اور دیگر معاون جنگی کشتیاں بھی شامل ہیں، جو سمندر اور فضا دونوں میں کارروائی کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سطح کی بحری نقل و حرکت کسی بھی ممکنہ فوجی آپشن کی تیاری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری مظاہروں اور ان کے خلاف حکومتی کارروائی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا تمام ممکنہ آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال جاری رکھا تو امریکا بڑی اور شدید فوجی کارروائی کے لیے تیار ہے۔ ان بیانات کے بعد خطے میں بے چینی مزید بڑھ گئی ہے۔

ایک طرف صدر ٹرمپ نے ایرانی عوام سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی ہے، تو دوسری جانب امریکی شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں، جسے سفارتی حلقے خطرے کی گھنٹی قرار دے رہے ہیں۔ امریکا کے اس دوہرے مؤقف نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی دھمکیوں کے جواب میں سخت موقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اتحادی ممالک کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ایرانی حکام نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور دیگر علاقائی ممالک کو پیغام دیا ہے کہ وہ امریکی فوجی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھیں کیونکہ کسی بھی کارروائی کے اثرات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

عالمی مبصرین کے مطابق امریکی جنگی بیڑے کی مشرق وسطیٰ روانگی خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے اور اگر حالات مزید بگڑے تو اس کے نتائج نہ صرف ایران اور امریکا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: طیارہ بردار کے مطابق

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔

ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار