گھر ٹوٹنے کا طعنہ، بشریٰ انصاری پر سوشل میڈیا صارفین کی شدید تنقید
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2026 GMT
پاکستان کی سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری اپنے ساتھی اداکار جاوید شیخ پر ذاتی نوعیت کا مذاق کرنے پر سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کی نشانہ بن رہی ہیں۔
بشری انصاری نے ایک پریس ایونٹ کے دوران پاکستان شوبز کے سینئر اور لیجنڈری اداکار جاوید شیخ کی ذاتی زندگی اور خاص طور پر ان کی طلاق کے حوالے سے کچھ جملے کہے جو نہ صرف جاوید شیخ کو ناگوار گزرے بلکہ سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس تبصرے پر بشریٰ انصاری کو آڑے ہاتھوں لیا۔
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب بشریٰ انصاری، جاوید شیخ، بہروز سبزواری، روبینہ اشرف، اور شبیر جان ایک پریس ایونٹ میں شریک تھے۔ ایونٹ کے دوران بشریٰ انصاری نے جاوید شیخ کی ذاتی زندگی، خصوصاً طلاق کے حوالے سے طنزیہ انداز میں بات کی، جو جاوید شیخ کو ناگوار گزری۔
وائرل ویڈیو کلپ میں بشریٰ انصاری کو یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ ’’میں جاوید شیخ کے گھر گئی تو انہوں نے مجھے کچھ کھلایا ہی نہیں کیونکہ ان کا کوئی گھر ہی نہیں تھا، وہ گھر میری آنکھوں کے سامنے بنا اور میری آنکھوں کے سامنے ہی ٹوٹ بھی گیا۔‘‘
اس پر جاوید شیخ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا ’’بشریٰ نے میری ٹوٹی ہوئی شادی پر مذاق کیا، لیکن ٹوٹا ہوا گھر کوئی مذاق نہیں ہوتا۔ میں نے کبھی ان کے ٹوٹے ہوئے گھر پر بات نہیں کی، نہ یہ سوال اٹھایا کہ ان کی شادی کیوں ختم ہوئی۔ آئندہ جب میری کہانی سنائیں تو اپنی کہانی بھی ساتھ سنایا کریں، کیونکہ آپ کی شادی بھی نہیں چل سکی۔‘‘
اس ویڈیو کے سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر ردِعمل کا طوفان آگیا۔ کئی صارفین نے بشریٰ انصاری کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا اور جاوید شیخ کی حمایت کی۔ ایک مداح نے لکھا کہ دونوں فنکاروں کی دوستی نظرِ بد کا شکار ہوگئی، جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ بشریٰ انصاری اکثر بلاوجہ حد سے زیادہ بول جاتی ہیں۔
کچھ صارفین نے یہ بھی لکھا کہ بشریٰ انصاری بلاشبہ ایک عظیم فنکارہ ہیں، لیکن عمر کے ساتھ ان کے بیانات میں تلخی آتی جا رہی ہے۔ بڑی تعداد میں مداحوں نے جاوید شیخ کو شوبز کا لیجنڈ قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ ہونے والے طنز کو نامناسب اور تکلیف دہ کہا۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سوشل میڈیا جاوید شیخ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔