بھتا خوری کی بڑھتی وارداتیں
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260118-03-6
شجاع صغیر
شہر کراچی کسی زمانے میں امن و سکون کا گہوارہ تھا، ایماندار، باکردار سیاست دان اس شہر کے نگہبان تھے۔ پھر سیاسی حالات تبدیل ہوگئے، الطاف حسین اس شہر کے بے تاج بادشاہ بن گئے، اُن کے ایک اشارے پر یہ شہر بند ہوجاتا تھا، پھر متحدہ نے بھتے کی سیاست شروع کردی، پھر کیا تھا ہر سیاسی و مذہبی جماعت نے بھتا لینا شروع کردیا۔ سرکاری بھتا اس سے الگ تھا پھر حالات بدلے الطاف حسین ملک چھوڑ کر چلے گئے مگر بھتا نہ رُکا، کچھ لوگوں نے الطاف حسین کا نام لے کر اور کچھ نے بدمعاشی کے زور پر بھتا لینا شروع کیا پھر ایک آپریشن ہوا اور یہ سلسلہ رُک گیا، یہ سلسلہ افغانستان اور ایران سے بھی چل رہا تھا بہتی گنگا میں سب ہاتھ دھو رہے تھے چند سال سے یہ سلسلہ بند ہوگیا تھا۔ کچھ بھتا خوروں کو حکومتی اور سیاسی سرپرستی بھی حاصل تھی جس میں لیاری کا علاقہ بھی شامل تھا پھر اچانک سے یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا، اب تو الطاف حسین بھی نہیں ہیں تو پھر اب یہ کون کررہا ہے اور شہر کے تاجر اُن کے نشانے پر ہیں۔ برادر کاشف ہاشمی کی رپورٹ کے مطابق بھتا خوری کی بڑھتی وارداتوں پر قابو پانے میں ناکام کراچی پولیس، تاجروں کا اعتماد کھو بیٹھی ہے، پولیس کی ناکامی پر تاجر برادری میں خوف اور بے چینی کی نئی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ شہر میں بھتا خوری کے واقعات ایک بار پھر تیزی سے بڑھنے لگے ہیں۔ کاروباری طبقے کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں میں بھتے کی درجنوں وارداتیں رپورٹ ہوچکی ہیں۔ اس نے نہ صرف تاجروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ عام شہریوں میں بھی ماضی کے پرتشدد دور کی یاد تازہ کردی ہے۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کے بھتا سیل کے چند افسران خود بھی شہر بھر میں آرگنائز کرائمز میں ملوث جرائم پیشہ افراد سے بھتا خوری میں ملوث ہیں۔
کراچی میں کئی برسوں سے بھتا خور سرگرم ہیں لیکن بھتا سیل نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اور اب جب شہر کے تاجروں نے شور شرابہ کیا تو بھتا سیل کے افسران نے کارروائیوں میں بھتا خوروں کو ہلاک، زخمی اور گرفتاری ظاہر کرنا شروع کردی۔ بھتا سیل کی کارکردگی کو پولیس کے افسران نے ایک مہرا بنا
کر تاجر برادری کو ٹھنڈا کرنے کے لیے پریس کانفرنس بھی کی لیکن تاجروں نے اسے رد کردیا۔ بھتے کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے پیش نظر شہر کی بزنس کمیونٹی نے خود حفاظتی اقدامات شروع کردیے ہیں۔ کراچی چیمبر آف کامرس کی جانب سے تاجروں کے لیے ایک اہم ایڈوائزری جاری کی گئی ہے جس میں انہیں سیکورٹی کیمرے نصب کرنے دکانوں اور دفاتر کے اردگرد حفاظتی اقدامات بڑھانے اور مشکوک سرگرمیوں پر فوری پولیس کو اطلاع دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تاجروں کی شکایت کے بعد آئی جی سندھ کی جانب سے ایک اہم پریس ریلیز جاری کی گئی جس میں بتایا گیا کہ بھتا خوری کے مجموعی طور پر 100 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں تاہم پولیس کے مطابق ان میں سے کچھ واقعات حقیقی بھتے سے متعلق ہیں۔ جبکہ ذاتی رنجشوں یا جھوٹے دعوئوں پر مبنی ہیں پھر ایک سیاسی پریس کانفرنس کی گئی جس میں پولیس نے ان ملزمان کا ذکر کیا جو بیرون ملک بیٹھ کر کراچی میں بھتا خوری کے نیٹ ورک چلا رہے ہیں۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ ان کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطے کیے جارہے ہیں۔ لیاری گینگ سے تعلق رکھنے والا وصی اللہ لاکھو نامی شخص جو بیرون ملک سے اپنا نیٹ ورک چلا رہا ہے یہ ایک اہم کردار ہے، وزارت داخلہ کے ذریعے انٹرپول کو خط لکھا تھا مگر وہ خط جو لکھا تھا وہ ورکنگ نہ ہونے کی وجہ سے واپس آگیا۔
یہ بات ابن آدم کی سمجھ سے باہر ہے وزارت داخلہ اور محکمہ پولیس میں کیا سب نااہل افراد ہیں جو بغیر اپنی ورکنگ کے انٹرپول کو خط لکھ رہے ہیں۔ بقول تاجر برادری کے ماضی میں ایک مخصوص سیاسی جماعت بھتا وصول کرتی تھی، بعدازاں جرائم پیشہ گروہوں اور سیاسی و مذہبی تنظیموں نے بھی اس دھندے میں حصہ ڈال لیا۔ اس وقت شہریوں کو بھتے کی ادائیگی سے انکار پر گولیاں اور دستی بموں کے حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا۔ کراچی آپریشن کے بعد ان واقعات میں نمایاں کمی آئی تھی لیکن اب صورت حال دوبارہ خطرناک سمت میں جارہی ہے۔ کئی تاجروں نے دکانیں بند کرنا شروع کردی ہیں اور بعض نے اپنے کاروبار دیگر شہروں یا ملکوں میں منتقل کرنے پر غور بھی شروع کردیا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات پہلے ہی کاروبار پر مبنی اثر ڈال رہے ہیں اس کے ساتھ بھتا خوری کا بڑھتا رجحان ایک اور بڑا دھچکا ہے۔ عوام حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ماضی کی طرح موثر اور ٹھوس اقدامات کریں تا کہ شہر دوبارہ خوف کے سائے میں نہ ڈوب جائے۔ شہر کے مختلف حصوں بالخصوص ڈسٹرکٹ سینٹرل میں ریسٹورنٹ مالکان، کیٹرنگ کے کاروبار اور بلڈرز سے بھتا طلب کیا گیا ہے، اسی طرح ڈسٹرکٹ ایسٹ اور سٹی میں بلڈروں سے بھتا طلب کیا اور نہ دینے پر ان پر فائرنگ کی۔ غیر ملکی فون نمبرز کا بھی پولیس افسران نے ذکر کیا ان نمبروں سے کالیں آتی ہیں یا بھتا کی پرچی پر غیر ملکی فون نمبر درج ہوتا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق یہ نیٹ ورک لیاری گینگسٹر وصی اللہ لاکھو کے لوگ چلا رہے ہیں۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ ہمارے ملک کے مشہور سماجی رہنما ظفر عباس سے بھی بھتا طلب کیا گیا تھا وہ بھتا خور پکڑے بھی گئے۔ ایک بااثر شخص کا نام بھی سامنے آیا مگر اس کے بعد بھی تاجر برادری کو، بلڈرز کو بھتا کی پرچیاں موصول ہورہی ہیں۔ کراچی میں تو زیادہ تر ایس ایچ او غیر مقامی ہیں جو یا تو پرچی پر آتے ہیں یا اوپر والوں کو بھاری رشوت دے کر آتے ہیں ان کو تو کمانا ہوتا ہے جو مال دے کر آتے ہیں پہلے تو وہ پورا کرتے ہیں اور پھر مزید مال بنانے میں لگ جاتے ہیں۔ اگر آپ کو تھانے میں کوئی کام ہو اور ایس ایچ او صاحب سے ملنا ہو تو آپ کا پورا دن ضائع ہوگا، اگر آپ بااثر ہیں اور آپ نے ڈی ایس پی یا ایس پی سے ایس ایچ او کو فون کروا دیا تو وہ آپ کو خود بلائے گا۔ شریف کی ہمارے معاشرے میں کوئی عزت نہیں، خاص طور پر تھانوں میں تو شریف آدمی ذلیل و خوار ہوجاتا ہے، ابھی چند روز پہلے شہر کراچی کے نوجوان فیضان حسین نے کراچی پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کی جس میں ایک ایس ایچ او پر الزام لگایا ہے کہ وہ ایک تاجر کو اغوا کی دھمکی دے کر کہہ رہا ہے کہ تجھے کچے کے ڈاکوئوں کے حوالے کردوں گا۔ باخبر حلقوں کی خبر ہے کہ چند افسران کے کچے کے ڈاکوئوں سے مراسم ہیں جو ان کے لیے سہولت کار کا کام کرتے ہیں۔ حال ہی میں ناگن چورنگی کے مشہور بریانی والے کو 10 لاکھ کے بھتا کی کال آئی اس نے پولیس سے کوئی رابطہ نہیں کیا بلکہ آپس میں جوڑ توڑ کرکے مسئلہ حل کرلیا۔ حال ہی میں محکمہ پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے ہوئے ہیں، کاش کے کوئی تبدیلی نظر آئے اب تو بوری بند لاشوں کا بھی سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ کراچی ایک مقتل بن گیا ہے نہ تو مرنے والے کو پتا اسے کیوں مارا نہ مارنے والے کو پتا کہ اس نے اسے کیوں مارا بس پیسہ ملے؛ بھائی مارتے وقت سوچ لیا کرو کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ سوائے جماعت اسلامی کے ظلم کے خلاف کوئی آواز بلند کرنے کو تیار نہیں عوام کو چاہیے کہ وہ جماعت اسلامی کا ساتھ دیں تا کہ ظلم کے نظام کو بدلا جاسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تاجر برادری الطاف حسین ایس ایچ او بھتا خوری کے مطابق بھتا سیل یہ سلسلہ بھتے کی سے بھتا رہے ہیں کی گئی شہر کے کے لیے
پڑھیں:
راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
فائل فوٹواڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے ان کی بہنیں نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی فیکٹری ناکے پہنچ گئیں، پولیس نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے قافلے کو روک دیا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سرکاری پروٹوکول میں گورکھ پور ناکے پر پہنچے تھے۔
سہیل آفریدی اپنی کابینہ ارکان کے ہمراہ گورکھ پور فیکٹری ناکے پر موجود ہیں، جہاں پولیس نے انہیں روک دیا۔