منعم ظفر نے چئیرمین نیو کراچی ٹاؤن کے ساتھ 1000 گلیوں کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے نیو کراچی ٹاؤن چیئرمین محمد یوسف ،وائس ٹاؤن چیئرمین شعیب بن ظہیر اور امیر ضلع طارق مجتبیٰ کے ہمراہ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن نیو کراچی میں 1000گلیوں کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔منعم ظفر خان نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ قابض میئر اپنے 13ٹاؤن میں سے کسی ایک ٹاؤن کا بتادیں جہاں نیو کراچی ٹاؤن جیسا کام ہورہا ہو، پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ کراچی میں بلاول کے وژن کے تحت کام ہو رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے کراچی کو کھنڈرات میںتبدیل کر دیا ہے ، کراچی کا انفرااسٹرکچر تباہ حال ہے، جہانگیر روڈ گزشتہ 5سال میں تیسری بار تعمیر کی جارہی ہے اور 2022میں 50 کروڑ روپے خرچ ہونے کے باوجود سڑک کی حالت سب کے سامنے ہے۔ جماعت اسلامی ان انتہائی نامساعد حالات میں بھی امانت اور دیانت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہی ہے جبکہ صوبائی حکومت کراچی کو اس کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ ہم نے عزم کیا تھا کہ تعمیر و ترقی کے سفر کو آگے بڑھائیں گے ۔ حافظ نعیم الرحمن کا واضح وژن تھا کہ جتنے بھی وسائل میسر ہوں گے، وہ عوام پر ہی خرچ کیے جائیں گے۔جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز اپنے محدود وسائل کے باوجود عوام کی خدمت میں مصروف ہیں۔ پیپلزپارٹی اپنے 13 ٹاؤنز میں سے کوئی ایک ٹاؤن نیو کراچی ٹاؤن کے مقابل لا کر دکھا دے۔ لانڈھی ٹاؤن میں 516 گلیوں کی تعمیر ہو رہی ہے، ناظم آباد،نارتھ ناظم آباد میں بڑی سڑکوں اور مارکیٹوں کو ماڈل بنانے کا کام جاری ہے جبکہ گلبرگ ٹاؤن میں پرائمری ہیلتھ کیئر سینٹر قائم کیا گیا ہے۔منعم ظفر خان نے مزیدکہاکہ سندھ حکومت جھوٹ، فراڈ اور دھوکا دہی کی بنیاد پر چل رہی ہے، پیپلزپارٹی نے کراچی کے عوام جھوٹے وعدوں ، دعوؤں کے سوا کچھ نہیں دیا۔ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر کراچی کے تمام اداروں پر قبضہ کر لیا ہے۔ ان اداروں پر قبضہ اس لیے کیا گیا تاکہ کرپشن کے ذریعے انہیں تباہ کیا جا سکے اور کراچی کے عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جائے۔انہوں نے کہاکہ میں نیو کراچی ٹاؤن کی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے 20 ہزار سے زاید گھرانوں تک پانی گھروں پر پہنچایا، حالانکہ پانی کی فراہمی ٹاؤن کا نہیں بلکہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا کام تھا۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے گزشتہ 15 سال میں 3360 ارب روپے انفرااسٹرکچر سیس کی مد میں ہڑپ کر لیے، کے فور منصوبے کو 22 سال گزر گئے ہیں لیکن یہ آج تک مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نے کراچی کے عوام کو اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ کراچی کی معیشت سے پورے پاکستان کی معیشت چل رہی ہو اور کراچی کو اس کا حق نہ دیا جائے۔ ماضی میں 1100 ارب، 162 ارب اور 35 ارب روپے کے پیکیجز کے اعلانات تو ہوئے، مگر کراچی کو آج تک اس کا اصل حق نہیں ملا۔جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کے حقوق اور اختیارات کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔محمد یوسف نے کہا ہے کہ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اپنی بنیادی ذمے داریاں ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ نیو کراچی ٹاؤن کا کوئی ایسا سیکٹر نہیں جہاں سیوریج اور پانی کی لائنیں خراب نہ ہوں، تاہم جماعت اسلامی نے اپنے ٹاؤن بجٹ میں سے 9 کروڑ روپے خرچ کرکے لائنوں کی مرمت اور بہتری کا کام کرایا۔انہوں نے کہا کہ نیو کراچی ٹاؤن کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ 20 ہزار سے زاید گھرانوں کو لائنوں کے ذریعے پانی کی فراہمی ممکن بنائی گئی، جس سے عوام کے ماہانہ 40 سے 50 ہزار روپے تک کے پانی کے اخراجات میں نمایاں کمی آئی۔ ماضی میں بڑی تعداد میں گلیوں اور سڑکوں کے گٹروں میں مین ہولز موجود نہیں تھے، جس پر جماعت اسلامی نے 1000 مین ہولز کور تقسیم کیے۔محمد یوسف نے کہا کہ ہم سب مل کر اپنے محلوں کو روشن اور بہتر بنانا چاہتے ہیں، اسی لیے نیو کراچی ٹاؤن میں 8 ماڈل اسٹریٹس بنائی گئیں، گلیوں میں روشنی کا باقاعدہ انتظام کیا گیا اور ماڈل محلے کا تصور بھی پیش کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ خستہ حال سرکاری اسکولوں کی عمارتیں گرا کر از سر نو تعمیر کا آغاز کیا گیا ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ سرکاری اسکولوں کے تعلیمی معیار کو پرائیویٹ اسکولوں کے برابر لایا جائے۔ اسی مقصد کے لیے اساتذہ کی ورکشاپس اور ٹریننگ کا اہتمام کیا گیا جبکہ اسکول کے بچوں کو کتابیں، کاپیاں اور اسٹیشنری مفت فراہم کی گئی۔نیو کراچی ٹاؤن میں 2 ڈسپنسریوں کو اپ ڈیٹ کیا گیا، تاہم بار بار خطوط لکھنے کے باوجود ڈاکٹر فراہم نہیں کیے جاتے۔ ڈسپنسریاں تو موجود ہیں لیکن ڈاکٹروں کی عدم دستیابی ایک سنگین مسئلہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ ٹاؤن میں 2100 سے زاید ملازمین کے واجبات طویل عرصے سے ادا نہیں کیے گئے تھے، لیکن گزشتہ ڈھائی سال میں 12 کروڑ روپے کے واجبات ادا کیے گئے اور ہر سال دسمبر میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ بھی کیا جاتا ہے۔ سرکاری افسران بھی جماعت اسلامی کے تعمیر و ترقی کے سفر میں ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔محمد یوسف نے کہا کہ اگرچہ نیو کراچی ٹاؤن کے ساتھ وزیر اعلیٰ سندھ، صوبائی وزیر اور میئر کراچی موجود نہیں، اس کے باوجود ہم نیو کراچی ٹاؤن کو ایک مثالی ٹاؤن بنا رہے ہیں۔ انہوں نے قابض میئر کراچی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ وہ کوئی ایک ایسا ٹاؤن بتائیں جہاں نیو کراچی ٹاؤن جیسا کام ہو رہا ہو۔جہانگیر روڈ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کی از سر نو تعمیر ہونی چاہیے، لیکن پہلے یہ جواب دیا جائے کہ 3 مرتبہ تعمیر ہونے کے باوجود یہ سڑک کیسے ٹوٹ جاتی ہے۔ ہم نے بھی 4000 فٹ روڈ تعمیر کی ہے جو آج بھی بہترین حالت میں موجود ہے۔ اگر قابض میئر جہانگیر روڈ تعمیر نہیں کر سکتے تو ہماری خدمات حاصل کرلیں، 23 کروڑ روپے ہمیں دے دیں، ہم بہترین تعمیر بھی کر کے دکھائیں گے اور رقم بھی بچا کر دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ قابض میئر نے اعلان تو کر دیا ہے کہ ٹینکر بند کر دیے جائیں گے، لیکن یہ بتایا جائے کہ نیو کراچی ٹاؤن کے عوام کو کب سے لائنوں میں پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیو کراچی ٹاؤن کراچی کے عوام جماعت اسلامی انہوں نے کہا کے عوام کو کے باوجود محمد یوسف کروڑ روپے نے کہا کہ ٹاؤن میں کراچی کو کیا گیا کے ساتھ کام ہو رہی ہے
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔
پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔
ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔