ریسکیو سسٹم ناکام، گل پلازہ کے تاجر حکومتی سہولیات پر برہم
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
کراچی کے علاقے میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آتشزدگی کے دوران شہر کا ریسکیو اور فائر فائٹنگ سسٹم مکمل طور پر ناکام ثابت ہوا۔ گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن کے صدر تنویر قاسم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود 80 سے 100 افراد اب بھی عمارت کے اندر پھنسے ہوئے ہیں، جبکہ ریسکیو کے نام پر کوئی مؤثر انتظام موجود نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ کی تاریخی اور تجارتی اہمیت کیا تھی؟
تنویر قاسم کے مطابق فائر بریگیڈ کی گاڑیوں میں ہر 10 منٹ بعد پانی ختم ہو جاتا ہے، جس کے باعث آگ پر قابو پانا ممکن نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ نہ فائر بریگیڈ کے پاس مناسب آلات ہیں، نہ اندر داخل ہونے کا کوئی مؤثر سیٹ اپ موجود ہے۔ آگ عمارت کی اوپری منزلوں پر لگی ہوئی ہے، مگر گاڑیاں اوپر تک پہنچ نہیں پا رہیں۔
???? Tragedy Strikes Karachi Mall in Devastating Fire
– At least 3 lives lost and dozens injured when a massive blaze engulfed Gul Plaza
– Shoppers and staff trapped inside, swiftly evacuated by rescue teams
– Thick black smoke poured out as firefighters battled the intense flames… pic.
— Voice Of Bharat ???????????? (@Kunal_Mechrules) January 18, 2026
صدر گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن نے بتایا کہ مارکیٹ میں متعدد ایگزٹس موجود ہیں، لیکن ریسکیو ادارے اندر پھنسے افراد تک پہنچنے میں ناکام ہیں۔ فائر فائٹرز کے پاس سیڑھیاں، جدید آلات اور مسلسل پانی کی سپلائی موجود نہیں، جس کی وجہ سے ریسکیو آپریشن بار بار رک جاتا ہے۔
تنویر قاسم نے کہا کہ تاجروں اور شہریوں نے وزیراعلیٰ، وزیراعظم، آرمی چیف اور دیگر اعلیٰ حکام سے مدد کی اپیل کی، مگر طویل وقت گزرنے کے باوجود کوئی ذمہ دار موقع پر نہیں پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ مال کا نقصان ہو جانا ایک بات ہے، مگر جانوں کا حساب کون دے گا؟ ابھی بھی لوگ اندر ہیں، بچے اپنے والدین کے لیے رو رہے ہیں، مگر سننے والا کوئی نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر کچھ اہلکاروں نے 2 سے ڈھائی سو افراد کو باہر نکالنے میں مدد دی، مگر اس کے بعد ریسکیو کا عمل سست پڑ گیا اور کئی سرکاری رابطے بھی منقطع ہو گئے۔ جانی نقصان کی اطلاعات تو ہیں، تاہم درست تعداد ابھی سامنے نہیں آ سکی۔
تنویر قاسم نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ کرے۔ اگر اس واقعے میں مزید جانیں ضائع ہوئیں تو اس کا جواب اسی نظام کو دینا ہوگا جو اس وقت بے بس نظر آ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گل پلازہ میں آگ لگنے کی وجہ کیا تھی اور اس سے کتنا نقصان ہوا؟
انہوں نے فوری مطالبہ کیا کہ آرمی اور نیوی کو ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو آپریشن میں شامل کیا جائے، کیونکہ موجودہ انتظامات کے ساتھ صورتحال پر قابو پانا ممکن نہیں رہا۔
گل پلازہ میں جاری صورتحال نے ایک بار پھر یہ تلخ حقیقت اجاگر کر دی ہے کہ کراچی کا ایمرجنسی اور ریسکیو انفراسٹرکچر کسی بڑے سانحے سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اور ہر گزرتا منٹ اندر پھنسے افراد کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تنویر قاسم کراچی گل پلازہ گل پلازہ آتشزدگی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تنویر قاسم کراچی گل پلازہ گل پلازہ ا تشزدگی تنویر قاسم گل پلازہ کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔