غزہ کے امن پر قیمت؟ ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘ کی رکنیت فروخت کرنے کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
غزہ کے امن پر قیمت؟ ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘ کی رکنیت فروخت کرنے کا منصوبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 18 January, 2026 سب نیوز
امریکی جریدے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کے لیے قائم کیے جانے والے مجوزہ “بورڈ آف پیس” کی رکنیت فروخت کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مختلف ممالک سے اس بورڈ کی مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کا مطالبہ کر رہی ہے۔
امریکی جریدے کے مطابق تجویز میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ خود اس بورڈ آف پیس کے چیئرمین ہوں گے، جبکہ بورڈ کی رکنیت، فیصلوں کی حتمی منظوری اور مالی وسائل کے استعمال کا اختیار بھی انہی کے پاس ہوگا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جو ممالک پہلے سال ایک ارب ڈالر ادا کریں گے، انہیں رکنیت کی مدت کی کسی حد سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد غزہ سے متعلق فیصلوں اور مالی معاملات کے لیے ایک مرکزی بین الاقوامی فورم قائم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
امریکی جریدے کے مطابق اس مجوزہ منصوبے نے عالمی سفارتی حلقوں میں بحث کو جنم دے دیا ہے، جبکہ اس پر مختلف ممالک کی جانب سے ردعمل سامنے آنے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکراچی: گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد متعدد افراد تاحال لاپتا، اہل خانہ پریشان کراچی: گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد متعدد افراد تاحال لاپتا، اہل خانہ پریشان روات میں جدید تعلیمی سہولیات کا آغاز، آئی سی سی کیمپس کا باضابطہ افتتاح گل پلازے کا حادثہ بڑا، کولنگ پراسیس میں 3 سے 4 دن لگ سکتے ہیں: چیف فائر آفیسر مینیسوٹا میں وفاقی جج کا اہم حکم: آئی سی ای ایجنٹس پر پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر پابندی مریم نواز نے پنجاب کا ماحول بدل دیا، مثبت تبدیلی سے مخالفین بھی انکار نہیں کر سکتے: چوہدری طارق سبحانی چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا کراچی میں گل پلازہ آتشزدگی کے افسوسناک واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بورڈ آف پیس کی رکنیت
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔