گل پلازہ سانحہ: جماعت اسلامی کا اظہارِ افسوس، سندھ حکومت پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: گل پلازہ میں آتشزدگی کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر امیر جماعتِ اسلامی کراچی منعم ظفر خان اور رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوءے کہا ہے کہ گل پلازہ کا سانحہ انتہائی دلخراش ہے، ہم جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل دے۔
امیر جماعتِ اسلامی کراچی نے رات 2:30 بجے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور امدادی کاموں کی نگرانی کی، اس موقع پر امیر ضلع اور الخدمت کی ٹیم بھی ان کے ہمراہ تھی۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ شہر میں آتشزدگی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور ان کی روک تھام کے لیے مؤثر انتظامات کا فقدان شدید تشویش کا باعث ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کو فوری طور پر مزید تیز کیا جائے، متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
دوسری جانب رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے سانحہ گل پلازہ میں جانی و مالی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کی، 12 گھنٹے گزر جانے کے باوجود آگ پر قابو نہ پایا جا سکا، یہ سوالیہ نشان ہے کہ سندھ حکومت کہاں ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے کاروباری مراکز فائر ٹریپ بن چکے ہیں اور فائر بریگیڈ کے انتظامات مکمل طور پر ناکام نظر آتے ہیں۔
محمد فاروق نے کہا کہ ناکافی انتظامات کے باعث فائر بریگیڈ کی گاڑیاں تاخیر سے پہنچیں، جس کے نتیجے میں آگ بے قابو ہو گئی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی کے تاجروں کو تحفظ فراہم کیا جائے،جب ٹیکس لیتے ہو تو سہولیات بھی دو مگر افسوس کہ کاروباری طبقے کے لیے سہولیات صفر ہیں اور حکمرانوں کو صرف ٹیکس کی فکر ہے۔
محمد فاروق نے اعلان کیا کہ جماعتِ اسلامی تاجروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ان کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محمد فاروق نے گل پلازہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی