سعودی عرب میں جاری جازان فیسٹیول میں فِیفا گورنریٹ کا پویلین مقامی ثقافت اور ورثے کی عکاسی کرتا نظر آیا، جہاں آنے والوں کو اس علاقے کی روایتی شناخت اور تاریخی روایتوں کا ایک واضح منظرنامہ پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی سائنسی مقابلوں میں سعودی عرب کی شاندار کامیابیاں، رپورٹ جاری

سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یہ پویلین ’یہ ہے جازان‘ کے تحت کلچرل اسٹریٹ میں 15 فروری تک جاری رہنے والے پروگرام کا حصہ ہے۔

پویلین میں روزمرہ زندگی کے مناظر کو روایتی ملبوسات، دستکاری کے نمونوں، کافی بنانے کے اوزار اور دیگر ثقافتی اشیا کے ذریعے دکھایا گیا ہے، جس سے مقامی دستکاریوں کی مختلف النوعیت اور علاقے کی ثقافتی دولت کا پتہ چلتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ زرعی تراسوں اور پہاڑی دیہات کے ماڈلز بھی رکھے گئے ہیں، جو فِیفا کے منفرد قدرتی ماحول اور جغرافیائی ساخت کو واضح طور پر پیش کرتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پویلین نے بڑی تعداد میں زائرین کو اپنی جانب متوجہ کیا، جو روایتی لباس اور معاشرتی رواجوں کے بارے میں جاننے کے لیے آئے۔

یہ بھی پڑھیں: ریاض تھیٹر فیسٹیول کا تیسرا ایڈیشن اختتام پذیر، نمایاں فنکاروں کو اعزازات سے نوازا گیا

پویلین کے عملے نے زائرین کو تفصیلی وضاحتیں فراہم کیں، جبکہ لائیو ڈیمونسٹریشنز نے اس تجربے کو مزید دلچسپ اور باہمی تعامل والا بنا دیا، جس سے آنے والوں کا اس علاقے کی روح اور ثقافتی پہچان سے تعلق مضبوط ہوا۔

منتظمین کے مطابق فِیفا کی شرکت نے نہ صرف اس کی ثقافتی وراثت کو اجاگر کیا بلکہ علاقے کے ثقافتی منظرنامے میں اس کی اہمیت اور قدر کو بھی نمایاں کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے