گل پلازہ کا 40 فیصد حصہ منہدم، شاپنگ کیلئے مشہور عمارت کی دردناک کہانی
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
کراچی:
ایم اے جناح روڈ پر قائم گل پلازہ میں ہفتے کی شب خوف ناک آتشزدگی کے نتیجے میں عمارت کا 40 فیصد حصہ زمین بوس ہونے کے بعد اتوار کی صبح جب سورج طلوع ہوا تو ہر جانب تباہی کے مناظر دیکھنے میں آئے، شہر کی مشہور و معروف عمارت گل پلازہ جو ہر طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی خریداری کا مرکز تھا جہاں شہریوں کو اپنی مرضی کا باآسانی سامان مل جاتا تھا وہ عمارت اب خوف ناک شعلوں کی نذر ہوچکی ہے۔
گل پلازہ کی تین منزلہ عمارت کا 40 فیصد حصہ زمین بوس ہوگیا جبکہ دیگر حصوں کو بھی مخدوش قرار دے دیا گیا، گل پلازہ میں لگنے والی خوف ناک آگ سے ہر جانب تباہی ہی تباہی کے مناظر ہیں، خوف ناک آگ نے نہ صرف دکانوں اور گوداموں کو جلا کر راکھ کر دیا بلکہ اس میں رکھا ہوا کروڑوں روپے مالیت کا سامان بھی جل کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا۔
اطلاعات کے مطابق دکانوں میں فروخت کی گئی اشیا کے عوض ملنے والی بھاری نقدی بھی موجود بتائی جاتی ہے جو اس خوفناک آگ میں دکانوں میں رکھے ہوئے سامان کے ساتھ جل کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی۔
جس عمارت میں روزانہ کی بنیاد پر خریداروں کا ہجوم رہتا تھا وہاں اب ہر جانب تباہی ہی تباہی ہے، لوگوں کا ہجوم بھی ہے لیکن وہ خریدار نہیں بلکہ تباہی کی شدت کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن تاحال دکانوں میں جل کر خاکستر ہونے والے سامان سے دھواں بلند ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
گل پلازہ کے تباہ حال دکانوں کے مالکان بھی زندگی بھر محنت سے قائم کیے گئے کاروبار کو اپنی آنکھوں کے سامنے جلتے اور تباہ ہوتے ہوئے دیکھ کر شدت غم سے نڈھال ہیں جبکہ ریسکیو کا عملہ امدادی کاروائیوں میں مصروف عمل ہے۔
شاپنگ کے حوالے سے مشہور عمارت گل پلازہ جو چاروں جانب سے تباہی اور بربادی کا منظر پیش کر رہی ہے، وہیں اس میں کاروبار اور ملازمت کرنے والے سینکڑں افراد بھی اس تباہی کے نتیجے میں شدید مالی اور معاشی مسائل سے دوچار ہوگئے ہیں۔
گل پلازہ خریداری کا وہ مرکز تھا جہاں نہ صرف نومولودوں کے کپڑوں سے لے کر بڑوں کے کپڑے، جہیز کا سامان، سفر کے لیے سوٹ کیس، کراکری، سردی سے بچنے کے لیے گرم کمبل اور کمفرٹس، بچوں کے دل بہلانے کے لیے ان کی پسند کے کھلونے، گھروں کو سجانے اور خود سنورنے کے استعمال کی آرٹیفیشل جیولری، جوتے، میک اپ، پرفیوم اور دیگر مختلف اقسام کی اشیا فروخت کی جاتی تھی بلکہ سیکڑوں شہریوں کے گھر کی دال روٹی کا انتظام بھی یہاں سے ہوتا تھا لیکن اب وہاں سوائے تباہی اور بربادی کے کچھ نہ رہا۔
کراچی کے مشہور شاپنگ پلازہ کی عمارت کو مخدوش قرار دیا گیا ہے اور گل پلازہ کی رونقیں بحال ہونے میں معلوم نہیں کتنا عرصہ لگے لیکن دکان مالکان کے نقصانات اور اس سے بڑھ کر اس حادثے کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانی نقصان کا ازالہ کون کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔