گل پلازہ آتشزدگی سانحہ: تاجروں نے کل یوم سوگ منانے کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
کراچی کے گل پلازہ میں بھڑکنے والی شدید آگ نے متعدد خاندانوں کو متاثر کردیا، واقعے کے 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود شعلوں پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ آتشزدگی کے باعث سینکڑوں تاجروں کا روزگار خاکستر ہو گیا اور کئی گھرانوں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے۔
مزید پڑھیں: کراچی: گل پلازہ میں لگنے والی آگ دوسرے روز بھی بے قابو، 6 افراد جاں بحق، 58 لاپتا، عمارت کے 2 حصے منہدم
واقعے پر آل صدر الائنس آف مارکیٹ اینڈ مال ایسوسی ایشن نے کل یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ سانحے میں جاں بحق ہونے والے تاجروں کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔
ادھر تاجر رہنما عتیق میر نے بتایا کہ گل پلازہ کی آگ سے تاجروں کو تقریباً 3 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے، جہاں ہر دکان میں اوسطاً 25 سے 30 لاکھ روپے مالیت کا سامان موجود تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ شادیوں کا سیزن اور عید قریب ہونے کے باعث نقصانات مزید سنگین ہیں، لہٰذا حکومت متاثرہ تاجروں کے لیے بولٹن مارکیٹ طرز کے امدادی پیکج کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہاکہ شہر بھر میں کل یومِ مذمت اور یومِ سوگ بھی منایا جائے گا۔
واضح رہے کہ کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر 24 گھنٹے بعد بھی قابو نہیں پایا جا سکا، واقعے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، جبکہ 60 سے زیادہ لاپتا ہیں۔
مزید پڑھیں: کئی گھرانوں کے چراغ گُل کرنے والی گل پلازہ کی آگ میں متعدد افراد لاپتا، اہل خانہ پریشان
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل انکوائری کی جائےگی، جبکہ تاجروں کے نقصانات کا ازالہ کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سوگ کا اعلان کراچی گل پلازہ آتشزدگی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سوگ کا اعلان کراچی گل پلازہ ا تشزدگی وی نیوز گل پلازہ کا اعلان
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔