گل پلازہ آتشزدگی، متعدد افراد تاحال لاپتا، اہلِ خانہ پریشان
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے بعد متعدد افراد تاحال لاپتا ہیں جس کے باعث ان کے اہلِ خانہ سخت پریشان ہیں۔
لاپتا افراد کے اہلخانہ مختلف اسپتالوں میں اپنے پیاروں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
ان افراد کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ اپنے پیاروں سے رات تک رابطہ تھا، اب فون بند ہیں۔
دوسری جانب سول اسپتال کے برنس سینٹر کے باہر متاثرہ افراد کے اہلخانہ کی بڑی تعداد موجود ہے۔ خدشہ ہے کہ کئی افراد اب بھی عمارت کے اندر موجود ہوں۔
گل پلازہ میں لگنے والی تیسرے درجے کی آگ پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ عمارت کا ایک اور حصہ صبح سویرے گر گیا تھا۔
آگ کے نتیجے میں فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں، دھوئیں کے باعث متعدد افراد کی حالت غیر ہوگئی، جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔