اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ ایڈوائزری پینل کی تشکیل پر اعتراض اٹھا دیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے حکمران اتحادی جماعتوں کا اجلاس بلایا، جس میں وائٹ ہاؤس کی طرف سے قائم کیے گئے غزہ مشاورتی پینل کی تشکیل پر اعتراض اٹھا دیا۔
وائٹ ہاؤس نے اس ہفتے اعلان کیاکہ ایک غزہ ایگزیکٹو بورڈ قائم کیا گیا ہے، جو وسیع تر بورڈ آف پیس کے تحت کام کرے گا اور اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی حاصل ہوگی، یہ اقدام غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے ان کے 20 نکاتی منصوبے کا حصہ ہے۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے بورڈ آف پیس میں وزیراعظم پاکستان کو شمولیت کی دعوت دے دی
اس ایگزیکٹو بورڈ کو مشاورتی کردار رکھنے والا قرار دیا گیا ہے، جس میں ترک وزیر خارجہ ہاکان فدان اور قطری سفارت کار علی الثواڈی کے علاوہ دیگر علاقائی اور بین الاقوامی اہلکار شامل ہیں۔
ہفتے کی رات نیتن یاہو کے دفتر نے ایگزیکٹو بورڈ کی تشکیل پر باقاعدہ اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ اس بورڈ کی ساخت اسرائیل کے ساتھ مشاورت کے بغیر طے کی گئی ہے۔
وزیراعظم کے دفتر نے بیان دیا کہ ’بورڈ آف پیس کے تحت قائم غزہ ایگزیکٹو بورڈ کی تشکیل کا اعلان اسرائیل کے ساتھ مشاورت کے بغیر کیا گیا اور یہ ملک کی پالیسی کے خلاف ہے۔‘
وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے وزیر خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ اس معاملے پر امریکی وزیر خارجہ سے رابطہ کریں۔
اعتراض کی وجہ واضح نہیں کی گئی، لیکن اسرائیل نے پہلے بھی جنگ کے بعد غزہ میں کسی بھی ترک کردار کی سخت مخالفت کی ہے، اور اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید کشیدگی رہی ہے۔
ٹرمپ نے ایگزیکٹو بورڈ میں ترکیہ کے وزیر خارجہ کے نام کے ساتھ ساتھ ترک صدر رجب طیب اردوان کو بھی مجموعی بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ کے منصوبے میں تین ادارے شامل ہوں گے: بورڈ آف پیس، جس کی صدارت ٹرمپ کریں گے، فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی جو غزہ کے انتظام کے لیے ذمہ دار ہوگی، اور غزہ ایگزیکٹو بورڈ جو مشاورتی کردار ادا کرے گا۔ فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی نے اپنا پہلا اجلاس ہفتے کو قاہرہ میں منعقد کیا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کا باضابطہ اعلان
یہ سفارتی پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکا نے اس ہفتے کہاکہ غزہ امن منصوبہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو بھی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دے دی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسرائیلی وزیراعظم اعتراض اٹھا دیا غزہ بورڈ آف پیس نیتن یاہو وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیراعظم اعتراض اٹھا دیا غزہ بورڈ ا ف پیس نیتن یاہو وی نیوز ایگزیکٹو بورڈ بورڈ آف پیس نیتن یاہو کی تشکیل کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔