’’بدل دو نظام کو، سنوار دو سندھ کو ‘‘جماعت اسلامی کی صوبے بھر میں عوامی رابطہ مہم کاآغاز
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکرٹری محمد یوسف نے کہا ہے کہ 17سال سے سندھ پر قابض پیپلزپارٹی نے صحت، تعلیم،صنعت وزرات کو تباہ کردیا،پورا سندھ کچے اور پکے کے ڈاکوؤں کے نرغے میں ہے، سندھ کے ہر ضلع پر پیپلز ہارٹی کا قبضہ ہے،کراچی میں بھی قبضہ کر کے اختیار حاصل کرلیا ہے، کچرے اور گندگی کی وجہ سے حیدرآباد میں ملیریا کے کیسز بڑھے، سندھ میں ہر طرف لاقانونیت ہے، زراعت کے معاملے میں بھی کاشتکار کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے، بڑی تعداد میں کاشتکار اس پیشے سے مایوس ہوکر اس پیشے کو چھوڑ رہے ہیں،بڑی تعداد میں ڈاکٹر اور انجینئر ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں، جماعت اسلامی نے مینار پاکستان پر اجتماع عام کیا جس میں سندھ کا مقدمہ لڑا،جماعت اسلامی نے اس نظام کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی ضلع حیدرآباد حافظ طاہر مجید، جنرل سیکریٹری محمد حنیف شیخ اور ڈپٹی جنرل سیکریٹری حافظ سفیان ناصر بھی موجود تھے۔ محمد یوسف نے مزید کہا کہ یہ پارٹیاں ڈلیور کرنے کے قابل نہیں ہیں، لوگ ان پارٹیوں سے نجاد چاہتے ہیں، الیکشن میں چودھریوں اور وڈیروں کو عوام پر مسلط کیا جاتا ہے، حکمران طبقے نے اس نظام کو مفلوج کردیا ہے، ہم نے طے کیا ہے کہ سندھ میں اس نظام کے خلاف تحریک چلائیں گے، پیپلز پارٹی کس چیز کا نام ہے، ایک خاندان اور چند وڈیرے، سندھ میں بچوں کے پیروں میں چپل موجود نہیں، تن کپڑے نہیں، جماعت اسلامی اس نظام کی تبدیلی کیلئے اوّل دستے کا کام کرے گی، ہم نے آل پارٹی کانفرنس بھی کی سندھ کی تمام پارٹیوں کو جمع بھی کیا تاکہ حکومت پر دباؤں ڈالا جا سکے، سندھ میں نہ تعلیم ہے، نہ صحت ہے، آنے والے وقت میں جماعت اسلامی ہی لوگوں کی امید بنے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف حیدرآباد میں ڈینگی اور ملیریا سے پچاس ہزار افراد متاثر ہوئے ، آج سندھ کا دوسرا بڑا شہر حیدرآباد کھنڈرات کا منظر پیش کررہا ہے،یہاں کے صنعتی ادارے بند اور تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے باعث نوجوان اپنے مستقبل کے لئے پریشان ہیں کراچی کی طرح حیدرآباد کی آبادی کو بھی مردم شماری میں کم ظاہر کیا گیا پھر بھی کم وبیش26لاکھ کی آبادی کے شہر کے لئے ترقیاتی بجٹ میں صرف ڈیڑھ اب روپے رکھے گئے ہیں وہ بھی شہر میں لگتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے، سندھ پر مسلط روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانی والی پیپلزپارٹی نے اپنے ہی بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات منتقل نہیں کئے جماعت اسلامی باختیار بلدیاتی نظام چاہتی ہے سندھ میں چار ہزار گھوسٹ اسکول موجود ہیں جبکہ78ہزاربچے اسکولوں سے باہر ہیں سندھ پر ڈاکو راج قائم ہے، جس کے خلاف صرف جماعت اسلامی نے آواز بلند کی بدامنی کا یہ حال ہے کہ سندھ میں خود پولیس پر2900حملے ہوئے،کندکوٹ سے بڑے پیمانے پر تاجراپنا کاروبار ختم کرکے دیگر علاقوں میں منتقل ہوگئے اسلئے اگر سندھ کے لوگ بھوک، بدحالی اور محرومیوں سے نجات چاہتے ہیں تو جماعت اسلامی کا ساتھ دیں تاکہ ان کے دکھوں کا مداوا ہوسکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔