معروف صحافی، شاعر اور ادیب منو بھائی کو دنیا سے رخصت ہوئے 8 برس بیت گئے
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک) معروف صحافی،شاعر اور ادیب منو بھائی کو دنیا سے رخصت ہوئے 8 برس بیت گئے۔
منو بھائی کا اصل نام منیر احمد قریشی تھا، وہ 6 فروری 1933ء کو وزیرآباد میں پیدا ہوئے، گریجوایشن گورنمنٹ کالج اٹک سے کی، مختلف اخبارات میں ادارتی عہدوں پر بھی فائز رہے، پاکستان ٹيلی وژن کیلئے بہت سے ڈرامے لکھے، ان کا سب سے مشہور ڈرامہ ’’سونا چاندی‘‘ ہے، دیگر ڈراموں میں ’’دشت‘‘ اور ’’آشیانہ‘‘ بھی بہت مقبول ہوئے، اس کے علاوہ ہزاروں کالم لکھے۔
بحیثیت صحافی انہوں نے سیاست سے لے کر ثقافت کو قریب سے دیکھا تھا، اس لئے ان کی شاعری میں حقیقت نگاری کا عنصر نمایاں ہے، منو بھائی کی مشہور تصانیف میں ’’محبت کی ایک سو نظمیں‘‘، ’’جنگل اداس ہے‘‘ اور ’’انسانی منظر نامہ‘‘ شامل ہیں۔
منو بھائی نے تھیلی سیمیا میں مبتلا بچوں کیلئے سندس فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی، جس کے وہ تاحیات چیئرمین رہے، اس فاؤنڈیشن سے مستحقین کے زخموں پر آج بھی ایسے ہی مرہم رکھا جا رہا ہے جیسے ان کی حیات میں جاری تھا۔
صحافت اور ادب میں خدمات پر منو بھائی کو تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا، وہ طویل علالت کے بعد 19 جنوری 2018ء کو 85 سال کی عمر میں لاہور میں انتقال کر گئے، انہیں میانی صاحب قبرستان میں سپردخاک کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: منو بھائی
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔