چین میں شرحِ پیدائش تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی، آبادی مسلسل چوتھے سال کم
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
چین میں سال 2025 کے دوران شرحِ پیدائش ریکارڈ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کی آبادی مسلسل چوتھے سال بھی کم ہوئی، حالانکہ حکومت شادی اور بچوں کی پیدائش بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چین میں صحراوں کو روکنے کیلئے گرین بیلٹ لگائے جاتے ہیں
چینی حکام کے مطابق گزشتہ سال ملک بھر میں صرف 79 لاکھ 20 ہزار بچوں کی پیدائش ریکارڈ کی گئی، جو کہ فی ہزار افراد 5.
China last year registered the lowest number of births since records began, marking the fourth consecutive year of population decline as policymakers grapple with a demographic crisis. https://t.co/Hg64IXVfr6 pic.twitter.com/2MsYLAJwh7
— Financial Times (@FT) January 19, 2026
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ اگرچہ ’ون چائلڈ پالیسی‘ کے خاتمے کے بعد حکومت کو بہتری کی امید تھی، تاہم 2024 میں معمولی اضافے کے بعد 2025 میں ایک بار پھر نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
سرکاری رپورٹ کے مطابق 2023 میں 90 لاکھ 20 ہزار بچوں کی پیدائش ہوئی تھی، جب کہ اس وقت شرحِ پیدائش فی ہزار 6.39 تھی۔ 2024 میں معمولی بہتری آئی، مگر یہ رجحان برقرار نہ رہ سکا۔
BREAKING: China’s birth rate has fallen to a record low, the lowest since 1949. The country’s population declined for a fourth consecutive year in 2025, as annual deaths continued to outnumber births.
No New Humans = No Civilization pic.twitter.com/uC7fXuvnA5
— DogeDesigner (@cb_doge) January 19, 2026
حکام کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں شادی کی شرح بھی ریکارڈ حد تک کم ہو چکی ہے۔ مہنگائی، بچوں کی پرورش کے بڑھتے اخراجات اور کیریئر سے متعلق خدشات کے باعث کئی نوجوان جوڑے بچے پیدا کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
دوسری جانب 2025 میں چین میں 1 کروڑ 13 لاکھ 10 ہزار اموات ریکارڈ کی گئیں، جس کے باعث شرحِ اموات فی ہزار 8.04 رہی۔ اس طرح مجموعی طور پر آبادی میں فی ہزار 2.41 کی کمی ہوئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق تیزی سے بڑھتی عمر رسیدہ آبادی چین کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے، اور موجودہ رجحان معیشت اور سماجی ڈھانچے پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چین شرح پیدائش ون چائلڈ پالیسی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چین شرح پیدائش ون چائلڈ پالیسی کے مطابق چین میں بچوں کی فی ہزار
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم