اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پیٹرولیم مصنوعات کی طرح بجلی کے بل میں بھی عوام پر بجلی کی لاگت سے زیادہ حکومتی ٹیکسز کا بوجھ ہے۔ صارفین صرف 6 قسم کے ٹیکسز کی مد میں 27 روپے فی یونٹ تک ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ فیول چارجز اس کے علاوہ ہیں۔

نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق بجلی بل صرف بجلی کا نہیں بلکہ اس میں ٹیکسز کا انبار بھی شامل ہے، جی ایس ٹی، انکم ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، اضافی سیلز ٹیکس اور کمرشل صارف کے لیے ایکسٹرا سیلز ٹیکس سمیت سالانہ 900 ارب روپے کے ٹیکسز بھی اسی بل کا حصہ ہیں۔

نجی ٹی وی کو دستیاب دستاویزکے مطابق صارفین بجلی پر تقریباً 8 روپے ٹیکس، 3 روپے 23 پیسے فی یونٹ گردشی قرض سرچارج،15 روپے 69 پیسے کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کرتے ہیں۔

وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال سے انڈونیشین ویکسین ساز کمپنی بایئو فارما کے سربراہ کی ملاقات

دستاویز کے مطابق صارفین سے 708 ارب روپے صرف جی ایس ٹی کی مد میں جمع ہوتے ہیں۔ نیپرا کے مطابق رواں سال صارفین 233 ارب روپے گردشی قرض سرچارج ادا کرچکے جو آئندہ بھی جاری رہے گا۔

صارفین کو کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں 1946ارب روپے ادا کرنا ہوں گے۔ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ اور فیول چارجز پر مزید ٹیکس اس کے علاوہ ہے۔
 

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: کی مد میں کے مطابق

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا