محبت کے جھانسے میں کروڑوں کا دھوکا، سافٹ ویئر انجینئر کو لڑکے نے کیسے لوٹا؟ چونکا دینے والے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور میں ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک 29 سالہ سافٹ ویئر انجینئر خاتون کو شادی اور کاروباری شراکت داری کا جھانسہ دے کر 1.53 کروڑ روپے سے زائد کی رقم سے مبینہ طور پر دھوکہ دیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزم پہلے سے شادی شدہ ہے اور اس کی بیوی سمیت اہلِ خانہ اس منظم فراڈ میں شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں سولر پینلز کا اربوں کا فراڈ، تاجروں کے پیسے کس نے ہڑپ کیے؟
متاثرہ خاتون نویہ شری جو وائٹ فیلڈ کی رہائشی ہیں، کی ملاقات مارچ 2024 میں اوکّلیگا میٹرمنیل ویب سائٹ کے ذریعے وجے راج سے ہوئی۔ ملزم نے خود کو VRG انٹرپرائزز کا مالک بتایا اور دعویٰ کیا کہ اس کے پاس کروڑوں روپے مالیت کے کاروبار، گاڑیاں، زمین اور بنگلورو کے پوش علاقوں راجاجی نگر اور سداشیو نگر میں جائیدادیں ہیں۔
اس نے 2019 کے ایک انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) کیس سے متعلق ضمانتی احکامات بھی دکھائے اور اپنے اثاثوں کی مالیت 715 کروڑ روپے بتا کر متاثرہ خاتون کا اعتماد حاصل کیا۔
یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی نے شہری کو لاکھوں کے فراڈ سے کیسے بچایا؟
ولیس کے مطابق ملزم نے نویہ شری سے شادی کا وعدہ کیا اور اپریل 2024 میں بینک اکاؤنٹ کے مسئلے کا بہانہ بنا کر ابتدا میں 15 ہزار روپے ادھار لیے۔ بعد ازاں اس نے کاروبار میں سرمایہ کاری کے نام پر متاثرہ خاتون، اس کے دوستوں اور اہلِ خانہ سے بڑی رقوم حاصل کیں۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نے اپنے والد کرشنپا بی گوڑا، جو خود کو ریٹائرڈ تحصیلدار ظاہر کرتے تھے اور دیگر اہلِ خانہ کے ذریعے متاثرہ خاندان کا اعتماد مزید مضبوط کیا۔ ملزم کے والد نے مبینہ طور پر VRG انٹرپرائزز کے چیک جاری کر کے رقم کی واپسی کی یقین دہانی کرائی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کی آسان کاروبار اسکیم میں کروڑوں روپے کے فراڈ کا انکشاف
ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ خاتون کے دوستوں نے مختلف مراحل میں 66 لاکھ اور 23 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی، جبکہ بعد میں ملزم نے عدالتی کیس کا حوالہ دے کر اپنے بینک اکاؤنٹس منجمد ہونے کا دعویٰ کیا اور عدالتی دستاویزات دکھا کر متاثرہ خاتون کے والدین سے بھی تقریباً 30 لاکھ روپے حاصل کیے۔
دسمبر 2024 سے فروری 2025 کے دوران متاثرہ کے والد نے 10.
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ ہیکنگ اور سائبر فراڈ سے بچاؤ، پی ٹی اے کی صارفین کو ہشیار رہنے کی ہدایت
جب متاثرہ خاتون رقم کی واپسی کے لیے ملزم کے گھر پہنچی تو انکشاف ہوا کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہے اور جس خاتون کو اس نے اپنی بہن بتایا تھا، وہ دراصل اس کی بیوی ہے جس سے اس کی شادی کو تین سال ہو چکے ہیں اور ان کا ایک بچہ بھی ہے۔
شکایت کے مطابق ملزم نے مختلف بینک اکاؤنٹس کے ذریعے مجموعی طور پر 1 کروڑ 75 لاکھ 66 ہزار 890 روپے وصول کیے، جن میں سے صرف 22 لاکھ 51 ہزار 800 روپے واپس کیے گئے، جبکہ 1 کروڑ 53 لاکھ 15 ہزار 90 روپے تاحال ادا نہیں کیے گئے۔ رقم کی واپسی کا مطالبہ کرنے پر متاثرہ خاتون اور اس کے دوستوں کو مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’ڈیجیٹل گرفتاری‘ کے نام پر شہری سے 51 لاکھ روپے کا فراڈ
پولیس نے ملزم وجے راج، اس کے والد اور بیوی کے خلاف دھوکہ دہی، مجرمانہ سازش اور مجرمانہ دھمکیوں کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے اور دیگر ممکنہ ملزمان کے کردار کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شادی فراڈ فراڈ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شادی فراڈ فراڈ متاثرہ خاتون یہ بھی پڑھیں لاکھ روپے کے مطابق کے والد
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔