نوبیل نہیں دیا گیا،خود کو اب امن کا پابند نہیں سمجھا ،ٹرمپ کی یورپ کو دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
نوبیل نہیں دیا گیا،خود کو اب امن کا پابند نہیں سمجھا ،ٹرمپ کی یورپ کو دھمکی WhatsAppFacebookTwitter 0 19 January, 2026 سب نیوز
واشنگٹن(آئی پی ایس ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نوبیل امن انعام نہ ملنے کے بعد اب وہ خود کو صرف امن کے بارے میں سوچنے کا پابند نہیں سمجھتے۔یہ بات انہوں نے ناروے کے وزیرِ اعظم یوناس گار اسٹورے کو لکھے گئے ایک خط میں کہی، جسے عالمی خبر رساں اداروں نے دیکھا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے خط میں گرین لینڈ پر مکمل امریکی کنٹرول کے مطالبے کو بھی دہرایا اور کہا کہ عالمی سلامتی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک امریکا کو گرین لینڈ پر مکمل اختیار حاصل نہ ہو۔
ٹرمپ نے خط میں لکھا کہ ان کے بقول انہوں نے آٹھ جنگیں رکوائیں، اس کے باوجود نوبیل امن انعام نہ دیا جانا ان کے لیے مایوس کن ہے، جس کے بعد وہ اب صرف امن کے نقطہ نظر سے فیصلے کرنے کے پابند نہیں رہے۔امریکی صدر نے ڈنمارک پر بھی تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ وہ گرین لینڈ کو روس یا چین سے کیسے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ پر ڈنمارک کے ملکیتی حق کے واضح شواہد موجود نہیں۔
ٹرمپ نے نیٹو پر بھی زور دیا کہ وہ امریکا کے لیے عملی اقدامات کرے اور دعوی کیا کہ انہوں نے نیٹو کے لیے کسی بھی دوسرے رہنما سے زیادہ خدمات انجام دی ہیں۔دوسری جانب ناروے کے وزیرِ اعظم یوناس گار اسٹورے نے جواب میں کہا کہ نوبیل امن انعام کا فیصلہ ناروے کی حکومت نہیں بلکہ ایک آزاد نوبیل کمیٹی کرتی ہے۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی گرین لینڈ خریدنے کے خواہاں رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے یورپی ممالک پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور تعاون پر زور ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور تعاون پر زور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف کی تقرری کا معاملہ زور پکڑ گیا سندھ حکومت کا سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو 1 کروڑ روپے دینے کا اعلان پاکستان میں رومانیہ کے سفیر کا گل پلازا آگ حادثے میں جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار راوانڈا ہائی کمشنر کی وزیر مملکت تعلیم سے ملاقاتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پابند نہیں
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔