data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر) ڈاؤلینس پاکستان میں ہوم اپلائنسز تیار کرنے والی صفِ اوّل کی کمپنی اور عالمی سطح پربیکو گروپ (Beko Group) کا ذیلی ادارہ ہے۔ ڈاؤلینس نے وائٹ ایگل انجینئرنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کے اشتراک سے گرین فیلڈ کنڈنسر مینوفیکچرنگ سہولت کا باضابطہ افتتاح کردیا ہے۔ وائٹ ایگل انجینئرنگ پرائیویٹ لمیٹڈ آپٹمائز انجینئرنگ کور پرائیویٹ لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی ہے۔ یہ اقدام ٹیکنالوجی کو مقامی حالات کے مطابق ڈھالنے کے لیے ڈاؤلینس کی حکمتِ عملی میں ایک اہم سنگِ میل ہے اور پاکستان میں ریفریجریشن کےلیے پرزوں کی تیاری کی صلاحیتوں میں نمایاں پیش رفت کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

وائٹ ایگل انجینئرنگ اور بین الاقوامی تکنیکی شراکت دار ٹاٹاٹو (Tatato) کے ساتھ باہمی تعاون کے تحت قائم کی گئی یہ سہولت پاکستان میں اپلائنسز مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم میں ایک اہم خُلا کو پُر کرتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے کنڈنسرز کی مقامی سطح پر تیاری ممکن ہو گئی ہے۔ کنڈنسرز نہایت تکنیکی اور معیار کے لحاظ سے حساس پرزے ہوتے ہیں، جنہیں ماضی میں مکمل طور پر درآمد کیا جاتا رہا ہے۔

افتتاحی تقریب میں ڈاؤلینس کے چیف ایگزیکٹو آفیسرعمر احسن خان کے ہمراہ کمپنی کی انجینئرنگ، تکنیکی اور ڈویلپمنٹ ٹیموں کے سینئر اراکین نے شرکت کی۔ وفد نے مینوفیکچرنگ آپریشنز، کوالٹی کنٹرول کے نظاموں اور پیداواری معیارات کا جامع تکنیکی جائزہ لیا، جو ڈاؤلینس پاکستان، بیکو تُرکیِہ اور وائٹ ایگل انجینئرنگ کے قریبی باہمی تعاون سے بین الاقوامی معیار کے مطابق قائم کیے گئے ہیں۔

یہ کامیابی ڈاؤلینس اور بیکو تُرکیِہ کی انجینئرنگ اور آر اینڈ ڈی ٹیموں کے ساتھ ساتھ وائٹ ایگل انجینئرنگ کے تکنیکی ماہرین کے درمیان کئی ماہ پر محیط مشترکہ اور بھرپور ترقیاتی عمل کے بعد حاصل ہوئی ہے۔ مقامی طور پر تیار کیے گئے کنڈنسرز کی پاکستانی انجینئرز نے ڈیزائن اور ٹیسٹ کیا ہے کارکردگی کے اعتبار سے عمدگی کی توثیق کی ہے۔ اس طرح، انہوں نے معیار، کارکردگی اور تکمیل کے وہ معیارات حاصل کیے جو درآمدی متبادل سے بھی بہتر ہیں۔ چند سال قبل تک اس پرزے کو مقامی سطح پر تیار کرنا حد درجہ پیچیدہ سمجھا جاتا تھا، تاہم ڈاؤلینس کے اس منصوبے نے اس مفروضے کو فیصلہ کن طور پر تبدیل کر دیا ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاؤلینس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، جناب عمر احسن خان نے کہا: ”ڈاؤلینس میں ٹیکنالوجی کو مقامی حالات کے مطابق ڈھالنا صرف ایک اسٹریٹجک ترجیح نہیں بلکہ پاکستان کی صنعتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے ایک طویل المدتی عزم ہے۔ وائٹ ایگل انجینئرنگ کا افتتاح اس پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے جو اُس وقت حاصل کی جاسکتی ہے جب انجینئرنگ میں مقامی مہارت کو بین الاقوامی معیار کے مطابق فروغ دیا جائے۔ ایواپوریٹرز (evaporators)اور کنڈنسرز جیسے اہم پرزوں کی مقامی تیاری کے ذریعے ہم ایک زیادہ مضبوط سپلائی چین کی تعمیر، درآمدات پر انحصار میں کمی، اور پاکستان میں اپلائنسز انڈسٹری کی پائیدار ترقی کو ممکن بنا رہے ہیں۔“

فی الوقت ان پرزوں کا تقریباً 75 فیصد مقامی سطح پر تیار کیا جا رہا ہے، جبکہ آئندہ مراحل میں ٹیکنالوجی کو مزید مقامی حالات کے مطابق ڈھالنے کا منصوبہ بھی ہے تاکہ درآمدات پر انحصار کو مزید کم کیا جا سکے۔ یہ اقدام ریفریجریشن کے ایک نہایت اہم پرزے کی مقامی حالات کے مطابق ڈھالنے کی اسٹریٹجی ، بہتر معیار اور قابلِ اعتماد پیداوار، قیمتی زرمبادلہ میں بچت، علم اور مہارت کی منتقلی، افرادی قوت کی صلاحیتوں میں اضافہ، اور پاکستان کی صنعتی مینوفیکچرنگ بیس کی توسیع کو ممکن بناتا ہے، جبکہ صلاحیتوں میں اضافے کے ساتھ مستقبل میں برآمدات کے امکانات بھی پیدا کرتا ہے۔

وائٹ ایگل انجینئرنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ یہ شراکت ڈاؤلینس کے وژن ”آج ترقی، کل کا تحفظ(Progress Today, Preserve Tomorrow) “ سے وابستگی کی عکاسی کرتی ہے، جس کے تحت مینوفیکچرنگ کی جدید صلاحیتوں کو فروغ دیا جا رہا ہے، مقامی صنعت کو مضبوط کیا جا رہا ہے، اور قدر میں تخلیق کو صارف کومنتقل کر کے پائیدار صنعتی ترقی میں معاونت کی جا رہی ہے۔اس طرح اسکوپ 3 (Scop 3) اخراج میں کمی بھی واقع ہوتی ہے۔ اس منصوبے کی کامیاب افتتاحی تقریب ریفریجریشن کے لیے’پاکستان میں تیار کردہ (Made in Pakistan) ‘پرزوں پر اعتماد کو مزید مضبوط کرتی ہے اور عالمی سطح پر مسابقتی صنعتی صلاحیت قائم کرنے کی پاکستان کی اہلیت کا عملی ثبوت پیش کرتی ہے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مقامی حالات کے مطابق پرائیویٹ لمیٹڈ پاکستان میں ڈاؤلینس کے پر تیار کرتی ہے کے ساتھ کیا جا رہا ہے

پڑھیں:

اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات

راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔

جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔

دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔

ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔

مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر

اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم