ایران دشمنی: امریکا کاطیارہ بردار بحری جہاز’ابراہم لنکن‘ مشرق وسطیٰ روانہ، ایف15 جنگی طیارے تعینات
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا کا طیارہ برداربحری جہاز’’ابراہم لنکن‘‘مشرقِ وسطیٰ روانہ ہوگیا جبکہ گیارہ سے زائد ایف فیفٹین لڑاکے طیارے تعینات کر دیئے گئے۔
تفصیلات کے مطابق ایران سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایک ماہ کے لیے اعلیٰ سطح کی اور چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ حالت کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی حکام نے بتایا کہ طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کو اسکارٹ بحری جہازوں کے ہمراہ مشرقِ وسطیٰ روانہ کر دیا گیا ہے، جبکہ خطے میں فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اضافی جنگی طیارے بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔
ڈیفنس سیکیورٹی ایشیا کی رپورٹ میں کہنا تھا کہ امریکا نے گیارہ سے زائد ایف۔15 لڑاکا طیارے اردن کے ایک ہوائی اڈے پر پہنچا دیے ہیں، جو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر امریکی تیاریوں کا حصہ ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی اقدامات کا مقصد خطے میں کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے اور اپنے اتحادیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں مزید فوجی نقل و حرکت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔