سانحہ گل پلازا، سندھ حکومت خود کو بری الذمہ نہیں سمجھتی، ناصر شاہ
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازا پر صوبائی حکومت خود کو بری الذمہ نہیں سمجھتی ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں ناصر حسین شاہ، وفاقی وزیر بلال اظہر کیانی اور پی ٹی آئی کے شہرام ترکئی نے شرکت کی۔
جوڈیشل کمیشن سے متعلق سوال پر صوبائی وزیر نے کہا کہ وہ جوڈیشل کمیشن سے تحقیقات کےلیے تیار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سانحہ گل پلازا پر سندھ حکومت خود کو بری الذمہ نہیں سمجھتی، ہم سے پہلا مطالبہ فارنزک تحقیقات کیا گیا ہے۔
بلال اظہر کیانی نے اس ایشو پر کہا کہ انسانی جانوں کے نقصان کے ذمے داروں کا تعین ہونا چاہیے، سندھ حکومت پتا لگائے کہ تھوڑی رقم کےلیے کون کون ایسے واقعات کے پیچھے ہے۔
شہرام ترکئی نے کہا کہ کراچی میں سانحہ بلدیہ سمیت پہلے بھی ایسے واقعات ہوچکے ہیں، 4 ادوار کی حکمران جماعت اب بھی کہہ رہی ہے ہم سیکھ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔