میانمر‘ ربڑ کی برآمدات 2 لاکھ ٹن سے متجاوز
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیپیداو¿: میانمر کی ربڑ کی صنعت اس وقت ترقیوں کی بلندیوں پر ہے، جس کی برآمدات 2 لاکھ ٹن سے تجاوز کر گئی۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق میانمر کی 9 ماہ کے دوران ربڑ کی برآمدات میں ہوش ربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ملکی ربڑ کی برآمدات 2 لاکھ ٹن سے متجاوز ہے۔ حکام کے مطابق میانمر ربڑ پلانٹرز اینڈ پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے عہدے دار نے بتایا کہ رواں مالی سال اپریل سے دسمبر تک کے عرصے میں ربڑ کی برآمدات سے ملک نے 30 کروڑ امریکی ڈالر سے زائد آمدن حاصل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی مجموعی ربڑ برآمدات کا تقریباً 75 سے 80 فیصد حصہ چین کو بھیجا گیا جبکہ باقی ربڑ ملائیشیا، انڈونیشیا، جنوبی کوریا، بھارت اور جاپان کو برآمد کیا گیا۔ یہ بات بھی علم میں رہے کہ ملک بھر میں 16 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر ربڑ کی کاشت کی جاتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ربڑ کی برآمدات
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔