گل پلازہ کی راکھ: کراچی کا نظام بے نقاب ہوا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260120-03-7
میر بابر مشتاق
گل پلازہ کی آگ کوئی اچانک حادثہ نہیں، بلکہ کراچی کے وجود میں دہکتی ہوئی ایک پرانی آگ کا شعلہ تھا۔ یہ شعلے کسی تار کے چھوٹنے کا نتیجہ نہیں، بلکہ سترہ سالہ سیاسی حکمرانی، بلدیاتی مفلوجیت، ریاستی نااہلی اور اجتماعی بے حسی کا دہکتا ہوا اعتراف تھے۔ یہ آگ صرف ایک عمارت تک محدود نہ تھی۔ یہ آگ پورے شہر کے بنیادی ڈھانچے، انتظامیہ کے دعوؤں اور ہمارے اجتماعی ضمیر پر لگی ہوئی تھی۔ گل پلازہ ایک عمارت تھی، مگر جو کچھ وہاں خاکستر ہوا، وہ ریاست پاکستان کا انسانیت اور انصاف کا وہ سارا دعویٰ تھا، جو کاغذوں میں تو چمکتا ہے مگر عملاً بے نام و نشان ہے۔
دنیا کے کسی بھی مہذب شہر میں آگ لگنا ایک قومی ایمرجنسی ہوتی ہے، جس پر پورا انتظامی ڈھانچہ حرکت میں آ جاتا ہے۔ مگر کراچی میں آگ لگنا ایک ’’معمول‘‘ بن چکا ہے۔ بازار جلتے ہیں، فیکٹریاں جلتی ہیں، مکانات جلتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار آگ اونچی تھی، عمارت فلک بوس تھی اور مرنے والا نوجوان اپنے موبائل فون کی اسکرین کے ذریعے پوری دنیا سے مدد کے لیے التجا کر رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے نہ صرف شعلے بڑھ رہے تھے، بلکہ ریاست کی ساری عمارت بھی دھوئیں میں تبدیل ہو رہی تھی۔ یہ ایک فرد کی موت نہیں، ریاست کے اجتماعی قتل کی ویڈیو تھی، جو لائیو اسٹریم ہو رہی تھی۔ یہ واقعہ کوئی ’’حادثہ‘‘ نہیں تھا۔ حادثہ تو وہ ہوتا ہے جس کی پیشگی روک تھام ممکن نہ ہو۔ گل پلازہ میں جو کچھ ہوا، وہ مکمل طور پر قابل ِ روک تھا۔ فائر سیفٹی کا کوئی نظام موجود نہ تھا۔ ایمرجنسی ایگزٹ یا تو تالے لگے تھے یا انہیں قبضہ مافیا نے اپنا گودام بنا رکھا تھا۔ فائر الارم بے صدا تھے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ممکن ہوا؟ اس کا واحد جواب ہے: کراچی میں قانون نہیں، صرف رشوت کی حکمرانی ہے۔ یہاں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایک نام نہاد ادارہ) تعمیر سے پہلے نہیں، حادثے کے بعد جاگتی ہے۔ اس عمارت کو مکمل ہونے کے بعد ’’این او سی‘‘ (نو آبجکشن سرٹیفکیٹ) کس نے دیا؟ کس انسپکٹر نے فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ پر مہر ثبت کی؟ یہ سوالات نہیں، بلکہ فردِ جرم ہیں، جو ہر اس افسر اور اہلکار کے خلاف ہے جو اس قتل میں شریک ِ جرم ہے۔
کراچی کا میئر ایک عجوبہ ہے۔ یہ ایک بااختیار عہدہ نہیں، بلکہ ایک نمائشی کرسی ہے۔ شہر کے تمام اہم اختیارات صوبائی حکومت کے پاس ہیں۔ وسائل بیوروکریسی کی گود میں ہیں۔ اور ذمے داری؟ وہ کسی کے پاس نہیں۔ یہ وہ شہر ہے جہاں میئر کے پاس صفائی کا اختیار نہیں، فائر بریگیڈ کا کنٹرول نہیں، ٹریفک سسٹم پر حکومت نہیں، اور نہ ہی پانی کی سپلائی۔ پھر سوال یہ ہے کہ کراچی کی لاش کس کے ہاتھ میں ہے؟ جواب واضح ہے: ایک ایسی سیاسی و انتظامی ڈھانچے کے ہاتھ میں، جو خود ایک لاش ہے۔ پیپلز پارٹی مسلسل سترہ برس سے سندھ پر حکمران ہے۔ مگر کیا ہوا؟ کراچی، جو ملک کا معاشی دل ہے، آج بھی بنیادی شہری سہولتوں سے محروم ہے۔ سترہ سال میں اگر ایک عالمی معیار کا فائر فائٹنگ سسٹم بھی قائم نہ ہو سکے، تو یہ محض نااہلی نہیں، بلکہ منظم غفلت اور عوامی وسائل سے کھلواڑ ہے۔ کراچی جیسے تین کروڑ آبادی کے میگا سٹی میں فائر ہائیڈرینٹس کا باقاعدہ نیٹ ورک موجود نہیں۔ جو ہیں، وہ یا تو خشک ہیں یا انہیں غیر قانونی پانی مافیا نے اپنی سپلائی لائنوں سے جوڑ رکھا ہے۔ یہاں آگ بجھانے کے لیے بھی ’’ٹینکر مافیا‘‘ کی ضرورت پڑتی ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ شہروں میں فائر بریگیڈ کی رسائی کا معیاری وقت 5 سے 7 منٹ ہے۔ کراچی میں گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر پہلا فائر ٹینڈر ایک گھنٹے بعد پہنچا۔ یہ تاخیر نہیں، یہ مجرمانہ غفلت اور انسانیت سے بیزاری تھا۔ اس ایک گھنٹے نے ثابت کر دیا کہ ریاست کے نزدیک ایک کراچی والے کی جان کی کوئی قدر نہیں۔ جب فائر ٹینڈر آخرکار پہنچے، تو پانی ختم ہو چکا تھا۔ فائر ہائیڈرینٹس کا کوئی فعال نظام موجود نہ تھا۔ پانی ٹینکروں پر منحصر تھا، جو خود ایک مافیا کی اجارہ داری ہے۔ پھر ڈیزل ختم ہو گیا۔ فائر ٹینڈر بے بسی سے کھڑے تماشائی بن گئے۔ کسی ایمرجنسی فیول پلان کا وجود نہ تھا۔ یہ وہ منظر تھا جہاں ریاست نے خود کو مکمل طور پر عریاں کر دیا۔ ایک شہر جو ملک کے بجٹ کا 65 فی صد سے زیادہ ریونیو پیدا کرتا ہے، وہ اپنے ہی فائر ٹینڈرز کو ایندھن تک نہیں دے سکتا۔ یہ المیہ نہیں، طنز ہے۔ اس تمام تر بربادی کے بعد، جدید ریسکیو کا واحد ذریعہ، اسنارکل، ’’ٹیکنیکل مسئلے‘‘ کا شکار ہو گیا۔ آنکھوں کے سامنے ایک انسان موبائل ہاتھ میں لیے، اپنی موت کو ریکارڈ کرتا رہا، اور پھر شعلوں میں گم ہو گیا۔ یہ صرف ایک انسان کی موت نہیں تھی۔ یہ ریاستی سسٹم کی موت، جدیدیت کے تمام دعوؤں کی موت، اور انسانی تقدیر کے ساتھ کھیلنے والے ہر ادارے کی موت تھی۔
حادثے کی گھڑی میں جب ریاستی ادارے تماشائی بنے کھڑے تھے، الخدمت فاؤنڈیشن کے جری رضاکاروں کی وہ گاڑیاں اور ایمبولینسیں سب سے پہلے راکھ اور دھوئیں میں گھس کر پہنچیں۔ بغیر بلٹ پروف جیکٹس، بغیر جدید سامان کے، صرف ایک جذبے کے ساتھ: بچاؤ۔ یہ منظر محض ایک ریسکیو آپریشن نہیں تھا، بلکہ ریاستی نظام کے مقابلے میں رضاکارانہ روح کی برتری کا اعلان تھا۔ الخدمت کے نوجوانوں نے جس بے خوفی اور مستعدی سے کام کیا، وہ حکومتی ریسکیو ٹیموں کے لیے شرم کا مقام ہے۔ انہوں نے وہ کام کیا جو فائر بریگیڈ، سیٹلائٹ ٹاؤن کے مقامی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کو کرنا چاہیے تھا۔ یہ رضاکار ایک سیاسی جماعت سے وابستہ ہو سکتے ہیں، مگر ان کا عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی نظریہ انسانیت سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔
سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟ کیوں کراچی جیسے شہر میں ریسکیو کا پورا نظام نجی رضاکاروں پر ٹکا ہوا ہے؟ الخدمت کا کردار قابل ِ تحسین ہے، مگر یہ ریاست کی بدترین ناکامی کی علامت بھی ہے۔ ایک صحت مند ریاست میں فائر بریگیڈ اور ایمبولینس سروس ہی اولین ردعمل ہوتی ہے، نہ کہ سیاسی وابستگی رکھنے والے رضاکار۔ الخدمت کی موجودگی ریاست کی غیر موجودگی کا نوٹس ہے۔ یہ ان کا کمال نہیں، ریاست کا زوال ہے۔
کراچی ملک کے مجموعی ریونیو کا سب سے بڑا حصہ پیدا کرتا ہے۔ مگر بدلے میں اسے کیا ملتا ہے؟ ناکافی پانی، ٹوٹی ہوئی سڑکیں، بجلی کی لوڈشیڈنگ، اور جلتی ہوئی عمارتوں سے گرتی ہوئی لاشیں۔ یہ ناانصافی نہیں، یہ کھلا ہوا استحصال ہے۔ کراچی کے شہری اپنے پیسے سے ملک چلاتے ہیں، مگر اپنی جان بچانے کے لیے بے سہارا ہیں۔ اس سانحے کے بعد وفاقی حکومت خاموش ہے۔ صوبائی حکومت بے حس ہے۔ بلدیاتی نمائندے بے اختیار ہیں۔ کوئی استعفا نہیں۔ کوئی احتساب نہیں۔ کوئی شخصی ذمے داری قبول نہیں۔ یہ خاموشی صرف غفلت نہیں، بلکہ جرم میں برابر کی شمولیت ہے۔ جو چپ رہتا ہے، وہ بھی مجرم ہے۔
بلاول بھٹو زرداری صاحب! آپ‘ونڈر بوئے’ بننے کے چکر میں پریزنٹیشن دینے میں مصروف ہیں، مگر بتائیں، آپ کی پارٹی نے اس شہر کا جو بیڑا غرق کیا ہے، اس کا جواب کون دے گا؟ ماؤں کو کون جواب دے گا جن کے بچے فون پر بات کرتے کرتے خاموش ہو گئے؟ زندگی بھر کی جمع پونجی، خواب، امیدیں سب کچھ خاکستر ہو گئیں۔ اور آپ کے قبضہ میئر کو یہاں آنے میں تیئیس گھنٹے لگ گئے۔ ان کی بے حسی کا کون حساب کرے گا؟ سترہ سال کی حکمرانی کا یہ خونیں حساب کتاب آپ کی پارٹی کے کھاتے میں درج ہے۔ یہ سوال آپ سے ہے، آپ کی صوبائی حکومت سے ہے، اور ان تمام سیاسی بدمعاشوں سے ہے جنہوں نے انتظامیہ کو اپنی قبضہ گروہوں کے حوالے کر رکھا ہے۔ اس سب کا ذمے دار کون ہے؟
جنرل عاصم منیر صاحب! آپ کے سینے پر سجے تمغے صرف سرحدوں کی حفاظت کے نہیں، بلکہ اس نظام کی سالمیت کے بھی ہیں۔ جس نظام نے سندھ میں پیپلز پارٹی کو سترہ سال مسلط رکھا ہے۔ جب ایک شہر کے اندر آگ لگتی ہے، تو یہ سوال صرف سیاست دانوں سے نہیں، بلکہ اس پورے قومی ڈھانچے سے کیا جاتا ہے، جس کی آپ حفاظت کرتے ہیں۔ کس نظام کی حفاظت کی جا رہی ہے؟ کس کے مفادات محفوظ کیے جا رہے ہیں؟ ایک شہری کی جان اس نظام میں کتنی ارزاں ہے؟
گل پلازہ کوئی آخری سانحہ نہیں ہے۔ یہ ایک خوفناک وارننگ ہے۔ اگر آج: 1۔ ذمے داروں کا تعین نہ ہوا، 2۔ بلڈنگ کنٹرول کے تمام بدعنوان افسران برطرف اور سزا نہ پائی، 3۔ فائر بریگیڈ کو جدید ترین سازوسامان، مستقل بجٹ اور تربیت نہ دی گئی، 4۔ میئر اور شہری حکومت کو حقیقی اختیارات نہ دیے گئے، 5۔ اور فائر سیفٹی قوانین کو سختی سے نافذ نہ کیا گیا، تو کل یہی آگ کسی اور نام، کسی اور عمارت سے نکلے گی۔ عمارت کا نام بدل جائے گا، لیکن لاشیں وہی رہیں گی۔ راکھ وہی ہوگی۔ اور آنسو وہی ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صوبائی حکومت فائر بریگیڈ گل پلازہ کے لیے کی موت کے بعد اور ان کوئی ا
پڑھیں:
ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔(جاری ہے)
ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔