مریم نے موقع ضائع کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
عوام اس وقت شدید معاشی دبائو، مہنگائی، بے روزگاری اور عوامی اضطراب کے دور سے گزر رہے ہیں جس کی ایک بڑی وجہ بناوٹ اور دکھلاوا ہے۔ عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ شادی جیسے بنیادی سماجی فریضے بھی متوسط اور غریب طبقے کے لیے ایک خوف بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں اگر حکمران طبقہ سادگی اختیار کرے تو وہ محض ایک ذاتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک قومی پیغام ہوتا ہے۔
آج کل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی کی تقریبات منعقد ہورہی ہیں۔ شادی کی تقریبات میں بارات سے قبل جاتی عمرہ میں مہندی کا فنکشن منعقد کیا گیا، جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ ان تصاویر کے ساتھ ساتھ فنکشن کے مینو کی تصاویر بھی سامنے آئیں، جن سے واضح طور پر یہ تاثر ملا کہ ون ڈش کی پابندی کی خلاف ورزی کی گئی اور مہمانوں کو مختلف اقسام کے کھانے پیش کیے گئے۔ یہ معاملہ محض ایک شادی کی تقریب کا نہیں بلکہ ایک اصول، ایک مثال اور ایک سوچ کا ہے۔ پنجاب حکومت خود ون ڈش کی پابندی پر زور دیتی ہے، عام شہریوں کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں، شادی ہال سیل کیے جاتے ہیں، جرمانے عائد ہوتے ہیں، مگر جب بات حکمران طبقے کی آتی ہے تو قانون محض ایک کاغذ بن کر رہ جاتا ہے۔
اس تقریب میں شریک افراد کے ملبوسات بھی عوامی بحث کا موضوع بنے۔ سوشل میڈیا پر فیشن سے واقف حلقوں کا کہنا ہے کہ مریم نواز، ان کی صاحبزادیوں اور جنید صفدر نے جو ملبوسات زیب تن کیے ان کی قیمتیں لاکھوں روپے تھیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز کا لباس اور جیولری مہنگی ہونے کے باعث سوشل میڈیا کا موضوع بن گئی۔ یاد رہے کہ ہم ایک ایسے بناوٹ اور دکھلاوے والے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں دوسروں کو مرعوب کرنے کے لیے شادیوں اور ملبوسات پر بے پناہ خرچ کیا جاتا ہے۔ یقینا ہر فرد کو اپنی خوشی منانے کا حق حاصل ہے، اور شادی ایک ذاتی معاملہ بھی ہے، لیکن جب کوئی شخصیت عوام کی منتخب نمائندہ ہو، صوبے کی وزیراعلیٰ ہو اور خود سادگی، کفایت شعاری اور عوامی ہمدردی کی بات کرتی ہو تو اس کی ذاتی تقریبات بھی عوامی پیغام بن جاتی ہیں۔
پاکستانی معاشرے میں شادیوں پر غیر معمولی سماجی دبائو پایا جاتا ہے۔ لوگ اپنی استطاعت سے بڑھ کر اخراجات کرتے ہیں، قرض لیتے ہیں، زیور بیچتے ہیں، زمینیں رہن رکھ دیتے ہیں، صرف اس لیے کہ ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘۔ لاکھوں روپے کے جوڑے صرف ایک دن کے لیے بنوائے جاتے ہیں، سیکڑوں افراد کو دعوت دی جاتی ہے، اور کئی خاندان برسوں تک ان اخراجات کا بوجھ اٹھاتے رہتے ہیں۔ ایسے میں اگر حکمران طبقہ سادگی اختیار کرے تو وہ معاشرے کے لیے ایک طاقتور مثال بن سکتی ہے۔ اگر وزیراعلیٰ پنجاب اپنے بیٹے کی شادی سادہ انداز میں کرتیں، ون ڈش کی پابندی پر خود عمل کرتیں اور غیر ضروری نمود و نمائش سے گریز کرتیں تو یہ پورے ملک کے لیے ایک مثبت پیغام ہوتا۔ یہ کہا جاتا کہ دیکھیں، اقتدار میں ہونے کے باوجود مریم نواز نے سادگی اپنائی۔ پھر عام آدمی کو بھی حوصلہ ملتا کہ وہ معاشرتی دبائو کو نظرانداز کر کے سادہ شادی کر سکتا۔ والدین اپنی بچیوں کی شادی قرض کے بغیر کرنے کا حوصلہ پاتے۔ نوجوان نسل یہ سمجھتی کہ خوشی کا تعلق اخراجات سے نہیں بلکہ نیت اور رشتے کی مضبوطی سے ہے۔ بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ جو تصاویر سامنے آئیں، انہوں نے سادگی کے بیانیے کو کمزور کر دیا۔ یہ وہی سادگی ہے جس کا درس عوام کو دیا جاتا ہے، مگر جس پر عمل حکمران طبقہ خود کرنے سے گریز کرتا دکھائی دیتا ہے۔
مریم نواز کے پاس بطور حکمران یہ ایک سنہری موقع تھا کہ وہ محض سیاسی نہیں بلکہ سماجی قیادت کا کردار ادا کرتیں۔ وہ ایسی مثال قائم کر سکتی تھیں جس کا حوالہ برسوں دیا جاتا۔ مگر یہ موقع ضائع ہو گیا۔ قوم کو آج تقاریر سے زیادہ مثالوں کی ضرورت ہے۔ عوام کو نعرے نہیں، عملی رویے درکار ہیں۔ اگر حکمران خود سادگی اختیار کریں گے تو معاشرہ بھی اسی سمت بڑھے گا، ورنہ مہنگے جوڑوں، قیمتی زیورات اور شاہانہ تقریبات کا یہ کلچر مزید مضبوط ہوتا چلا جائے گا، اور اس کا بوجھ ہمیشہ کی طرح عام آدمی ہی اٹھاتا رہے گا۔ (بشکریہ: روزنامہ جنگ)
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نہیں بلکہ مریم نواز جاتا ہے کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب
اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔
تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت
اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ