جادو ٹونا یا اسکی تشہیر پر 6 ماہ تا 7 سال قید ہوگی‘ پینل کوڈ میں ترمیم کا بل سینیٹ سے منظور
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260120-08-26
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ میں پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کا بل منظور کر لیا گیا، ترمیم میں تعزیرات پاکستان میں نئی دفعہ 297 الف شامل کی گئی ہے۔ بل جادو ٹونا کی روک تھام سے متعلق ہے، بل کے مطابق جو شخص جادو ٹونا یا اس کی تشہیر کرے اسے 6 ماہ سے 7 سال تک قید ہو گی، جرم کے مرتکب شخص کو 10لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا۔ روحانی علاج کے لیے وزارت مذہبی امور کے لائسنس یافتہ فرد پر اس ترمیم کا اطلاق نہیں ہوگا۔ سینیٹ نے ذہنی صحت ترمیمی بل، نرسنگ کونسل ترمیمی بل ، میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ترمیمی بل ، سول سرونٹس ترمیمی بل سمیت کئی بل منظور کیے۔ غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کا بل متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ سینیٹر سرمد علی کا پیش کردہ صوبائی موٹر گاڑی ترمیمی بل بھی منظور کر لیا گیا۔ سینیٹ میں سول سرونٹس ترمیمی بل بھی منظور کر لیا، بل میں کہا گیا ہے کہ صوبوں کے شیئر سے خواتین کو 10اور اقلیتوں کو 5 فیصد کوٹہ دیا جائے۔ سینیٹ نے وفاقی نصاب، نصابی کتب سے متعلق بل، اور صوبائی موٹر گاڑی ترمیمی بل بھی منظور کر لیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: منظور کر لیا
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔