اندھیرا، دھواں اور بند دروازے، سانحہ گل پلازہ کیسے رونما ہوا ؟ دل دہلا دینے والے انکشافات سامنے آگئے
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
سانحہ گل پلازہ کیسے رونما ہوا ؟ حادثہ سانحے میں کیسے بدلا؟ دل دہلا دینے والے انکشافات سامنے آگئے۔متاثرہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ عمارت کے کُل 26 داخلی و خارجی دروازے ہیں ، رات دس بجے تمام گیٹ بند کرکے صرف دو دروازے کُھلے رکھے جاتے ہیں۔دکانداروں نے بتایا کہ المناک سانحے کے وقت عمارت میں موجود لوگوں کو معمول کے مطابق 26 میں سے 24 دروازے بند ملے ، کوئی ایمرجنسی ایگزٹ نہیں تھا اور آگ انتہائی تیزی سے پھیل رہی تھی، پوری مارکیٹ میں دھواں ہی دھواں بھر چکا تھا۔دکانداروں نے بتایا کہ آگ کے وقت بجلی بند تھی، کسی کو کچھ سمجھ آرہا تھا، نہ نظر نہ آ رہا تھا، بھگدڑ مچی ہوئی تھی، دھوئیں کی وجہ سے محصور افراد کو سانس لینے میں شدید دشواری تھی۔ واقعے کے وقت دکانوں پر ورکرز اور گاہک موجود تھے۔دکانداروں کے مطابق آگ لگنے کے کچھ دیر بعد کچھ لوگ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے، دکانداروں نے بہت سے لوگوں کو اپنی مدد آپ کے تحت ہی عمارت سے باہر نکالا۔یاد رہے کہ کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع شاپنگ مال گل پلازہ میں آگ بجھنے کے بعد ملبہ ہٹانے اور لاپتا افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔ اب تک 26 ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ واقعے کے بعد اب بھی 76 افراد لاپتا ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔