Jasarat News:
2026-06-02@22:23:09 GMT

سینیٹ کا اہم فیصلہ، تولیدی صحت تعلیم میں شامل

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: سینیٹ نے تولیدی صحت کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے کا بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت 14 سال سے زائد عمر کے بچوں کے لیے تولیدی صحت سے متعلق تعلیم متعارف کرائی جائے گی۔

بل کا مقصد طلبہ کو جسمانی، ذہنی اور سماجی بہبود سے متعلق بنیادی آگاہی فراہم کرنا ہے۔

بل میں واضح کیا گیا ہے کہ تولیدی صحت کی تعلیم دینے سے قبل والدین کی تحریری رضا مندی حاصل کرنا لازم ہوگا، تاکہ اس عمل میں والدین کی شمولیت اور اعتماد کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس شق کو طلبہ اور والدین دونوں کے تحفظ کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

منظور شدہ بل کے مطابق نصاب اور درسی کتب کی تیاری کے دوران متعلقہ اتھارٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تولیدی صحت سے متعلق مواد طلبہ کی عمر اور ذہنی سطح کے مطابق ہو۔

بل میں کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد بچوں اور نوجوانوں کو درست معلومات فراہم کرنا، صحت مند رویوں کو فروغ دینا اور معاشرتی سطح پر آگاہی میں بہتری لانا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تولیدی صحت

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ