Al Qamar Online:
2026-06-02@20:45:16 GMT

2500 روپے کے تنازع پر قتل کیس، ملزم 15 سال بعد بری

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایک طویل عرصے سے زیرِ سماعت قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے پندرہ برس بعد نامزد ملزم کو تمام الزامات سے بری کر دیا اور اس کی فوری رہائی کا حکم جاری کر دیا۔

یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سنایا، جس میں جسٹس ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کے خلاف الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا اور مقدمے میں شکوک و شبہات کی گنجائش واضح طور پر موجود ہے۔

عدالت نے اس مقدمے میں لاہور ہائیکورٹ کا 29 نومبر 2017 کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں میں شواہد اور گواہیوں کا درست اور مکمل جائزہ نہیں لیا گیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق کپڑے کی دکان پر بقایا 2500 روپے کے تنازع پر درج قتل کے مقدمے میں نامزد نعیم ارشد عرف پپو کے خلاف شواہد قابلِ اعتماد نہیں تھے۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ شکایت کنندہ کی جائے وقوعہ پر موجودگی مشکوک دکھائی دیتی ہے، جبکہ واقعے کے وقت مکمل اندھیرے کی صورتحال تھی اور کسی قسم کے روشنی کے ذرائع کا تذکرہ بھی ریکارڈ پر موجود نہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ واقعہ استغاثہ کے بیان کردہ انداز میں پیش آنے کے شواہد نہیں ملتے بلکہ پورا معاملہ پراسرار نوعیت اختیار کر جاتا ہے۔ فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ تفتیشی افسر کے مطابق فائرنگ نعیم ارشد نے نہیں بلکہ شہباز علی نے کی تھی، جس سے مقدمے کی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ شہباز علی سے برآمد ہونے والے پستول سے موقع واردات سے ملنے والا خول میچ ہوا تھا، تاہم شہباز علی کو ٹرائل کورٹ پہلے ہی بری کر چکی تھی، شہباز علی کی بریت کے خلاف نہ تو ریاست کی جانب سے اپیل دائر کی گئی اور نہ ہی شکایت کنندہ نے اسے چیلنج کیا جبکہ اہم گواہوں کو عدالت میں پیش نہ کرنا بھی استغاثہ کے لیے منفی پہلو ثابت ہوا۔

یاد رہے کہ مقتول انور کو 14 مارچ 2011 کو ساہیوال میں واقع کپڑے کی دکان پر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔ شکایت کنندہ کے مطابق قتل سے دو روز قبل کپڑوں کے بقایا 2500 روپے کے معاملے پر جھگڑا ہوا تھا۔

اس مقدمے میں ٹرائل کورٹ نے 2015 میں نعیم ارشد کو 25 سال قید کی سزا سنائی تھی، تاہم سپریم کورٹ نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ملزم کو پندرہ سال بعد انصاف فراہم کرتے ہوئے بری کر دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سپریم کورٹ شہباز علی کورٹ نے

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار