سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پی ٹی اے اور این سی سی آئی اے کی تجاویز کے تحت پیکا ترمیمی قانون کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا۔

اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل کی سربراہی میں ہوا، جس میں آئی جی سندھ کی غیر حاضری پر کمیٹی کے اراکین نے اظہار ناراضی کیا۔

مزید پڑھیں: فائر وال اور پیکا قوانین کا مقصد اظہارِ رائے روکنا نہیں، وزیر مملکت طلال چوہدری

چیئرمین نے سوال کیاکہ آئی جی سندھ کیوں اجلاس میں موجود نہیں تھے اور کمیٹی کو اس بارے میں آگاہ کیوں نہیں کیا گیا۔

رکن کمیٹی سیف اللہ ابڑو نے اجلاس کے دوران پولیس کی اجارہ داری کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے گل پلازہ واقعے کے حوالے سے پوچھا کہ پولیس تب کہاں تھی اور یہ کمیٹی پولیس افسران کو جوابدہ بنانے کے لیے قانون سازی کرے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایس ایچ او کو گولی مار کر شہید کیا گیا، تو پولیس کہاں تھی، اور کیا پولیس صرف پارلیمنٹیرینز کو ہراساں کرنے تک محدود رہے گی؟

اجلاس میں پیکا ترمیمی بل پر بھی بحث ہوئی۔ اراکین نے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد کے ہٹانے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے۔

انوشہ رحمان نے کہاکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو قابل اعتراض مواد ہٹانے کے لیے واضح طریقہ کار مقرر ہونا چاہیے، اور اگر پلیٹ فارمز پی ٹی اے یا این سی سی آئی اے کی درخواست پر مواد نہیں ہٹاتے تو کیا کارروائی ہوگی۔ ڈی جی این سی سی آئی اے نے کہا کہ وہ پہلے ہی پلیٹ فارمز کو تعاون کے لیے درخواست دے چکے ہیں۔

وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ سوشل میڈیا سے متعلق قوانین کی ذمہ داری متعلقہ وزارتوں پر ہے اور انہوں نے بتایا کہ دہشت گرد پہلے پستول استعمال کرتے تھے، اب سوشل میڈیا کے ذریعے اثر ڈال رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور سروس پرووائیڈرز کو قانون کے مطابق پابند بنانے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب حکومت کا عمران خان کے متنازع بیان پر پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ

اجلاس کے اختتام پر سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ نے پیکا ترمیمی قانون متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews پیکا ترمیمی قانون سینیٹ کمیٹی داخلہ متفقہ منظوری وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پیکا ترمیمی قانون سینیٹ کمیٹی داخلہ متفقہ منظوری وی نیوز پیکا ترمیمی قانون سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے

پڑھیں:

امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور

امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی

قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔

یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔

مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔

Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.

This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP

— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026

اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز

متعلقہ مضامین

  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن