بی جے پی چھوٹی پارٹیوں کیساتھ اتحاد کرکے انہیں حاشیے پر ڈال دیتی ہے، کپل سبل
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
کانگریس لیڈر نے کہا کہ دھکمی دے کر یا ای ڈی وغیرہ کو پیچھے لگا کر ایسے میں یہ پارٹیاں بی جے پی کی حمایت کرتی ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخاب کے نتائج آ چکے ہیں۔ بی جے پی نے اس انتخاب میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس انتخاب پر پورے ملک کی نگاہیں مرکوز تھیں۔ اس درمیان سابق کانگریس لیڈر اور راجیہ سبھا رکن کپل سبل کا اہم بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن سمیت مہاراشٹر کے 29 میونسپل کارپوریشنوں کے انتخابی نتائج سامنے آئے ہیں، جو مہاراشٹر اور قومی سطح پر ہونے والے آئندہ انتخابات کے لئے کچھ اشارے پیش کرتے ہیں۔ اتوار کو ایک انٹرویو کے دوارن کپل سبل نے کہا کہ اس انتخاب میں سب کا نقصان ہوا صرف بی جے پی کو فائدہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی ایک حکمت عملی رہی ہے، پہلے پاس اس کے بعد بنواس۔ بی جے پی کو جن ریاستوں میں لگتا ہے کہ وہ وہاں کمزور ہے اور اسے وہاں ووٹ نہیں ملیں گے، وہ جیت نہیں پائے گی تو وہ چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ سمجھوتہ کر لیتی ہے اور اقتدار میں آنے کے بعد انہیں حاشیہ پر ڈھکیل دیتی ہے۔ جیسے ہریانہ میں لوک دَل کے ساتھ کیا۔ راجیہ سبھا رکن نے کہا کہ جن ریاستوں میں بی جے پی کا کانگریس کے ساتھ براہ راست مقابلہ ہے جیسے اترپردیش میں، وہاں پارٹی کبھی کسی سے سمجھوتہ نہیں کرتی اور اگر کرتی ہے تو بالواسطہ طور پر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھکمی دے کر یا ای ڈی وغیرہ کو پیچھے لگا کر ایسے میں یہ پارٹیاں بی جے پی کی حمایت کرتی ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔
کپل سبل نے کہا کہ بہار میں بی جے پی نے جے ڈی یو کے ساتھ مل کر انتخاب لڑا اور بڑی پارٹی بن گئی بعد میں جے ڈی یو کو حاشیہ پر رکھ دیا۔ کپل سبل کا کہنا ہے کہ اب بی جے پی تمل ناڈو میں بھی یہی کوشش کر رہی ہے، لیکن وہاں کی سیاست مختلف ہے۔ وہاں وہ ناکام ہوئے تو انہوں نے اب مندر کی سیاست شروع کر دی ہے۔ وہاں کے پنڈتوں کو اترپردیش لے جاتے ہیں، اس طرح سے یہ لوگ وہاں مندر کی سیاست کے ذریعہ اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بنگال میں بی جے پی کے ساتھ کوئی نہیں جائے گا تو انہیں براہ راست انتخاب لڑنا ہوگا۔ کیرالہ میں بھی ان کے ساتھ کوئی نہیں وہاں بھی انہیں پریشانی ہوگی۔ کپل سبل کے مطابق بی جے پی صرف اپنا فائدہ دیکھتی ہے، جہاں انہیں فائدہ ہوتا ہے وہ دوسری پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کر لیتی ہے اور بعد میں انہیں پارٹیوں کو حاشیے پر ڈال دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اشارہ اپوزیشن کو سمجھ لینا چاہیئے کہ اگر وہ سمجھوتہ کرے گی تو آپ اقتدار میں تو آ جاؤ گے، آپ نائب وزیر اعلیٰ تو بن جاؤ گے لیکن آپ کا مستقبل ختم ہو جائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اجیت پوار کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، آج ان کا کیا مستقبل ہے۔ کپل سبل نے کہا کہ عوام بھی اس طرح کی سیاست نہیں چاہتی، پہلے آپ کسی اور کے ساتھ رہو اور بعد میں کسی اور کے ساتھ ہو جاؤ۔ کپل سبل نے یہ بھی کہا کہ ایکناتھ شندے کے ساتھ بھی اب یہی ہو رہا ہے، انہیں اپنے کونسلروں کو ہوٹل میں رکھنے پڑ رہے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ بی جے پی توڑ لیتی ہے اور خرید لیتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ لوگ جانتے ہیں موقع پرست سیاست کب کی جاتی ہے، ایسے میں ہمیں اس سے سبق لینا چاہیئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کپل سبل نے کی سیاست بی جے پی لیتی ہے کے ساتھ ہے اور
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔