انقلاب اسلامی کو کٹہرے میں کھڑا کرنے والوں کے نام
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: انقلابِ اسلامی ایران اگر آج بھی قائم ہے تو اس کی وجہ رہبرِ انقلاب کی بصیرت، عوام کی قربانیاں اور مظلوموں کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی ہے۔ یہی وابستگی اسے عالمی استکبار کی آنکھوں میں کانٹا بنائے ہوئے ہے اور یہی اس کی اصل کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسلامی جمہوریہ ایران کو مزید استقامت عطا فرمائے، امتِ مسلمہ کو اتحاد نصیب کرے اور مظلوم فلسطینی قوم کو جلد آزادی سے ہمکنار فرمائے۔ تحریر: آغا زمانی
ایران کے موجودہ حالات پر کی جانے والی تنقید اگرچہ بظاہر داخلی مسائل، احتجاجات اور سیاسی ساخت کے بعض پہلوؤں کو نمایاں کرتی ہے مگر یہ تجزیہ اس وقت یک رُخی اور نامکمل ہو جاتا ہے جب اسے اس وسیع تر تاریخی، عالمی اور استعماری تناظر سے کاٹ دیا جائے جس میں انقلابِ اسلامی ایران نے جنم لیا، پروان چڑھا اور آج تک استقامت کے ساتھ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں برپا ہونے والا انقلابِ اسلامی محض اقتدار کی منتقلی نہیں تھا بلکہ عالمی استکبار و استعمار، صہیونیت اور سامراجی نظام کے خلاف ایک فکری، اخلاقی اور سیاسی بغاوت تھی۔ اس انقلاب نے پہلی بار جدید دور میں یہ عملی پیغام دیا کہ ایک اسلامی، خود مختار اور عوامی نظام نہ صرف ممکن ہے بلکہ وہ عالمی طاقتوں کے جبر کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا بھی ہو سکتا ہے۔
ولایتِ فقیہ اور نظریاتی استقامت
ایران کا سیاسی نظام اکثر ''نیم جمہوری'' یا ''آمرانہ'' کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ولایتِ فقیہ کا تصور محض اقتدار کا مرکز نہیں بلکہ انقلاب کے نظریاتی تشخص کا محافظ ہے۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے خود بارہا واضح کیا کہ اگر اسلامی نظام اپنی روح یعنی اسلام، استقلال، آزادی اور مظلوموں کی حمایت سے دستبردار ہو جائے تو ایسے اقتدار کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ رہبرِ معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ کی قیادت میں یہی کوشش مسلسل جاری ہے کہ ریاست وقتی عوامی دباؤ یا عالمی خوشنودی کے بجائے انقلاب کے بنیادی اہداف پر قائم رہے۔ یہی استقامت ہے جو عالمی طاقتوں کو ناگوار گزرتی ہے اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے ایران کے خلاف سازشوں کا آغاز ہوتا ہے۔
احتجاجات اور عالمی اسکرپٹ
یہ مانا جا سکتا ہے کہ ایران کو معاشی دباؤ، پابندیوں، بے روزگاری اور سماجی مسائل کا سامنا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کون سا خودمختار اور پابندیوں میں جکڑا ہوا ملک ان مسائل سے دوچار نہیں؟ ایران پر گزشتہ چار دہائیوں سے لگائی گئی غیر انسانی پابندیاں محض حکومت کے خلاف نہیں بلکہ عوام کے حوصلے توڑنے کے لیے ہیں۔ اس کے باوجود ایران نے دفاعی خود کفالت حاصل کی۔ سائنسی و جوہری ترقی کی۔ خطے میں صہیونی منصوبوں کو ناکام بنایا۔ فلسطین، لبنان، یمن اور دیگر مظلوم اقوام کی عملی مدد کی۔۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے اندر کسی بھی احتجاج کو عالمی میڈیا فوری طور پر ''انقلاب کے خاتمے'' کے طور پر پیش کرتا ہے جبکہ مغرب میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کو جمہوری حق کہا جاتا ہے۔
مساجد، تشدد اور بیانیے کی جنگ
مساجد یا عوامی املاک کو نقصان پہنچنے کے واقعات اگر کہیں ہوئے بھی ہیں تو انہیں پورے معاشرے یا اسلامی نظام سے بغاوت قرار دینا عین وہی بیانیہ ہے جو شاہِ ایران کے دور میں بھی استعمال کیا گیا تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج اس بیانیے کے پیچھے سی آئی اے، موساد اور مغربی میڈیا کی مربوط حکمتِ عملی موجود ہے۔ یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ ایران واحد ملک ہے جہاں ریاستی پالیسی کی سطح پر مذہب کو سرمایہ نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ اگر نئی نسل میں سوالات اور بے چینی ہے تو اس کا حل نظام کی جڑیں کاٹنا نہیں بلکہ اصلاح، مکالمہ اور تربیت ہے، جس کی گنجائش خود رہبرِ انقلاب بارہا بیان کر چکے ہیں۔
صدور اور نظام: ٹکراؤ یا احتساب؟
ایران کے صدور کے حوالے سے یہ تاثر دینا کہ وہ سب اقتدار چھوڑنے کے بعد معتوب ہو جاتے ہیں، حقیقت کا جزوی بیان ہے۔ دراصل ایران کا نظام شخصیات کے بجائے اصولوں کے گرد گھومتا ہے۔ جو صدر اپنے دور میں ان اصولوں سے انحراف کرتا ہے، وہ اقتدار کے بعد قدرتی طور پر عوامی اور ادارہ جاتی اعتماد کھو دیتا ہے۔ یہی چیز مغربی آمریتوں اور اسلامی نظام میں بنیادی فرق ہے، جہاں سابق حکمران بھی ''ناقابلِ احتساب مقدس گائیں'' بنے رہتے ہیں۔
فلسطین، مظلومینِ جہاں اور اتحادِ امت
ایران کی سب سے بڑی خطا یہ ہے کہ اس نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ فلسطین کے لیے ہتھیار، آواز اور سفارت فراہم کی۔ شیعہ سنی تفریق کے بجائے اتحاد بین المسلمین کو ریاستی پالیسی بنایا۔ یمن، لبنان اور عراق میں مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہوا۔ یہ وہ جرائم ہیں جو عالمی استعمار کبھی معاف نہیں کرتا۔
غور طلب بات
ایران کا اسلامی نظام بے خطا نہیں، مگر یہ نظام غلام نہیں۔ اس کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو فرشتہ اور نظام کے ہر دفاع کو شیطانی قرار دینا فکری بددیانتی ہے۔ ریاستی سرپرستی میں نعرے لگانے اور سینے پر گولیاں کھا کر کھڑے ہونے کا فرق ضرور ہے مگر یہ فرق اس وقت بامعنی ہوتا ہے جب احتجاج کا ایندھن عوامی درد ہو، نہ کہ بیرونی ایجنڈا۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ انقلابِ اسلامی ایران اگر آج بھی قائم ہے تو اس کی وجہ رہبرِ انقلاب کی بصیرت، عوام کی قربانیاں اور مظلوموں کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی ہے۔ یہی وابستگی اسے عالمی استکبار کی آنکھوں میں کانٹا بنائے ہوئے ہے اور یہی اس کی اصل کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسلامی جمہوریہ ایران کو مزید استقامت عطا فرمائے، امتِ مسلمہ کو اتحاد نصیب کرے اور مظلوم فلسطینی قوم کو جلد آزادی سے ہمکنار فرمائے۔ آمین
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلامی نظام نہیں بلکہ ایران کے یہ ہے کہ کے ساتھ جاتا ہے کے خلاف
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔