Islam Times:
2026-07-24@09:42:35 GMT

ایران: پوشیدہ جنگ اور بدلتا ہوا عالمی نقشہ

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

ایران: پوشیدہ جنگ اور بدلتا ہوا عالمی نقشہ

اسلام ٹائمز: ایران نے اس مرحلے پر امریکہ، اسرائیل اور ان کے یورپی اتحادیوں کی مشترکہ دباؤ کی حکمتِ عملی کو ناکام بنایا مگر یہ جنگ اختتام کو نہیں پہنچی۔ یہ اب اگلے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ جدید دور میں سب سے خطرناک جنگ وہ ہوتی ہے جس کا اعلان کبھی نہیں کیا جاتا۔ تحریر: میثم عابدی

ایران میں حالیہ مظاہروں، اس کے بعد عالمی میڈیا میں پیدا ہونے والے طوفان، اور پھر اچانک خاموشی نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کیا جدید دور میں جنگیں اب بندوق سے نہیں بلکہ بیانیے سے لڑی جا رہی ہیں؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ماضی میں امریکی عسکری قیادت خود اس حقیقت کا اعتراف کر چکی ہے کہ بعض ممالک کو براہِ راست جنگ کے بجائے اندر سے غیر مستحکم کرنا ترجیحی حکمتِ عملی رہی ہے۔

جنرل ویسلے کلارک کا انکشاف، ایک پرانا منصوبہ:
سن 2007ء میں نیٹو کے سابق کمانڈر جنرل ویسلے کلارک نے انکشاف کیا تھا کہ نائن الیون کے بعد امریکی پینٹاگون میں ایک خفیہ منصوبہ موجود تھا جس کے تحت سات مسلم ممالک میں حکومتیں تبدیل کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔ عراق، شام، لبنان، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، ایران منصوبوں کے تحت چھ ممالک میں اس پر عمل درآمد کرایا گیا۔ ان ممالک میں آخری اور سب سے اہم نام ایران تھا۔ آج جب ایران میں ہونے والے واقعات کو دیکھا جائے تو یہ بات محض اتفاق نہیں لگتی کہ دو دہائیوں بعد بھی وہی ملک عالمی دباؤ کا سب سے بڑا مرکز بنا ہوا ہے۔

جدید جنگ: بغیر ٹینک، بغیر بم
ایران میں حالیہ بحران میں نہ کوئی باضابطہ فوجی حملہ ہوا، نہ فضائی کارروائی مگر معاشی دباؤ، داخلی احتجاج، میڈیا یلغار، سوشل میڈیا مہم، مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ مواد، سب کچھ ایک ساتھ استعمال ہوا۔ یہ وہ جنگ تھی جسے عسکری ماہرین Hybrid Warfare یا Fifth Generation War کہتے ہیں۔

کرنل ڈگلس مکگریگر کی تنبیہ
امریکی فوج کے سابق کرنل ڈگلس مکگریگر، جو حالیہ برسوں میں امریکی پالیسی کے سخت ناقد بن کر سامنے آئے ہیں، بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ ایران کو اندر سے توڑنے کی کوشش ناکام ہو رہی ہے۔ امریکہ اسرائیلی دباؤ میں خطرناک فیصلوں کے قریب پہنچ رہا ہے۔ ایران پر براہِ راست حملہ پورے خطے کو آگ میں جھونک دے گا۔

ایران کا ردعمل: دفاع، نہ کہ پسپائی
زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل اور اس کے یورپی اتحادیوں کے ذریعے جو ایران میں سازش کے ذریعے فساد اور بغاوت کروائی گئی۔ ایران نے اس کا بڑی کامیابی سے دفاع کیا اور ایک دفعہ پھر ان طاقتوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران ریاستی نظام برقرار رہا۔ عسکری ادارے منظم رہے۔ احتجاج مسلح بغاوت میں تبدیل کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی مگر ناکام ہوگئے۔ حکومت کا کنٹرول ختم نہیں ہوا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایران نے اس مرحلے پر اپنا ایک کامیاب دفاع کیا۔ یہ دفاع عسکری نہیں بلکہ ریاستی بقا کا دفاع تھا۔

شکست کے اثرات: اب آگے کیا؟
یہاں ایک اہم نکتہ ابھرتا ہے۔ اگر عراق، لیبیا یا شام کی طرح ایران بھی اندر سے ٹوٹ جاتا تو خطے کا نقشہ مکمل طور پر بدل جاتا۔ لیکن چونکہ ایسا نہ ہو سکا، اس لیے اب صورتحال الٹ سمت میں جا رہی ہے۔ بہت سے تجزیہ نگاروں کے مطابق ایران اب پہلے سے زیادہ محتاط ہوگا، اس کا سکیورٹی اسٹرکچر مزید مضبوط ہوگا، داخلی کنٹرول سخت تر ہوگا اور خارجہ پالیسی زیادہ جارحانہ ہو سکتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اسرائیل کے لیے سب سے زیادہ تشویش ناک بنتا جا رہا ہے۔

اسرائیل کا وجود اور بڑھتا ہوا خوف
اسرائیلی اسٹریٹجک حلقوں میں یہ سوچ اب کھل کر زیرِ بحث آ چکی ہے کہ اگر ایران مکمل طور پر مستحکم ہو گیا تو خطے میں طاقت کا توازن مستقل طور پر اسرائیل کے خلاف جا سکتا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایران کو کمزور کرنے کی کوشش میں ناکامی اب اسرائیل کے اپنے مستقبل پر سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہے۔

جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، صرف بدل گئی ہے
ایران نے اس مرحلے پر امریکہ، اسرائیل اور ان کے یورپی اتحادیوں کی مشترکہ دباؤ کی حکمتِ عملی کو ناکام بنایا مگر یہ جنگ اختتام کو نہیں پہنچی۔ یہ اب اگلے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ جدید دور میں سب سے خطرناک جنگ وہ ہوتی ہے جس کا اعلان کبھی نہیں کیا جاتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران نے اس ایران میں چکی ہے رہی ہے

پڑھیں:

امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ

بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔

ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم