Islam Times:
2026-06-03@02:55:34 GMT

ایران: پوشیدہ جنگ اور بدلتا ہوا عالمی نقشہ

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

ایران: پوشیدہ جنگ اور بدلتا ہوا عالمی نقشہ

اسلام ٹائمز: ایران نے اس مرحلے پر امریکہ، اسرائیل اور ان کے یورپی اتحادیوں کی مشترکہ دباؤ کی حکمتِ عملی کو ناکام بنایا مگر یہ جنگ اختتام کو نہیں پہنچی۔ یہ اب اگلے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ جدید دور میں سب سے خطرناک جنگ وہ ہوتی ہے جس کا اعلان کبھی نہیں کیا جاتا۔ تحریر: میثم عابدی

ایران میں حالیہ مظاہروں، اس کے بعد عالمی میڈیا میں پیدا ہونے والے طوفان، اور پھر اچانک خاموشی نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ کیا جدید دور میں جنگیں اب بندوق سے نہیں بلکہ بیانیے سے لڑی جا رہی ہیں؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ماضی میں امریکی عسکری قیادت خود اس حقیقت کا اعتراف کر چکی ہے کہ بعض ممالک کو براہِ راست جنگ کے بجائے اندر سے غیر مستحکم کرنا ترجیحی حکمتِ عملی رہی ہے۔

جنرل ویسلے کلارک کا انکشاف، ایک پرانا منصوبہ:
سن 2007ء میں نیٹو کے سابق کمانڈر جنرل ویسلے کلارک نے انکشاف کیا تھا کہ نائن الیون کے بعد امریکی پینٹاگون میں ایک خفیہ منصوبہ موجود تھا جس کے تحت سات مسلم ممالک میں حکومتیں تبدیل کرنے کا ہدف رکھا گیا تھا۔ عراق، شام، لبنان، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، ایران منصوبوں کے تحت چھ ممالک میں اس پر عمل درآمد کرایا گیا۔ ان ممالک میں آخری اور سب سے اہم نام ایران تھا۔ آج جب ایران میں ہونے والے واقعات کو دیکھا جائے تو یہ بات محض اتفاق نہیں لگتی کہ دو دہائیوں بعد بھی وہی ملک عالمی دباؤ کا سب سے بڑا مرکز بنا ہوا ہے۔

جدید جنگ: بغیر ٹینک، بغیر بم
ایران میں حالیہ بحران میں نہ کوئی باضابطہ فوجی حملہ ہوا، نہ فضائی کارروائی مگر معاشی دباؤ، داخلی احتجاج، میڈیا یلغار، سوشل میڈیا مہم، مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ مواد، سب کچھ ایک ساتھ استعمال ہوا۔ یہ وہ جنگ تھی جسے عسکری ماہرین Hybrid Warfare یا Fifth Generation War کہتے ہیں۔

کرنل ڈگلس مکگریگر کی تنبیہ
امریکی فوج کے سابق کرنل ڈگلس مکگریگر، جو حالیہ برسوں میں امریکی پالیسی کے سخت ناقد بن کر سامنے آئے ہیں، بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ ایران کو اندر سے توڑنے کی کوشش ناکام ہو رہی ہے۔ امریکہ اسرائیلی دباؤ میں خطرناک فیصلوں کے قریب پہنچ رہا ہے۔ ایران پر براہِ راست حملہ پورے خطے کو آگ میں جھونک دے گا۔

ایران کا ردعمل: دفاع، نہ کہ پسپائی
زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل اور اس کے یورپی اتحادیوں کے ذریعے جو ایران میں سازش کے ذریعے فساد اور بغاوت کروائی گئی۔ ایران نے اس کا بڑی کامیابی سے دفاع کیا اور ایک دفعہ پھر ان طاقتوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران ریاستی نظام برقرار رہا۔ عسکری ادارے منظم رہے۔ احتجاج مسلح بغاوت میں تبدیل کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی مگر ناکام ہوگئے۔ حکومت کا کنٹرول ختم نہیں ہوا۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایران نے اس مرحلے پر اپنا ایک کامیاب دفاع کیا۔ یہ دفاع عسکری نہیں بلکہ ریاستی بقا کا دفاع تھا۔

شکست کے اثرات: اب آگے کیا؟
یہاں ایک اہم نکتہ ابھرتا ہے۔ اگر عراق، لیبیا یا شام کی طرح ایران بھی اندر سے ٹوٹ جاتا تو خطے کا نقشہ مکمل طور پر بدل جاتا۔ لیکن چونکہ ایسا نہ ہو سکا، اس لیے اب صورتحال الٹ سمت میں جا رہی ہے۔ بہت سے تجزیہ نگاروں کے مطابق ایران اب پہلے سے زیادہ محتاط ہوگا، اس کا سکیورٹی اسٹرکچر مزید مضبوط ہوگا، داخلی کنٹرول سخت تر ہوگا اور خارجہ پالیسی زیادہ جارحانہ ہو سکتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اسرائیل کے لیے سب سے زیادہ تشویش ناک بنتا جا رہا ہے۔

اسرائیل کا وجود اور بڑھتا ہوا خوف
اسرائیلی اسٹریٹجک حلقوں میں یہ سوچ اب کھل کر زیرِ بحث آ چکی ہے کہ اگر ایران مکمل طور پر مستحکم ہو گیا تو خطے میں طاقت کا توازن مستقل طور پر اسرائیل کے خلاف جا سکتا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایران کو کمزور کرنے کی کوشش میں ناکامی اب اسرائیل کے اپنے مستقبل پر سوالیہ نشان بنتی جا رہی ہے۔

جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، صرف بدل گئی ہے
ایران نے اس مرحلے پر امریکہ، اسرائیل اور ان کے یورپی اتحادیوں کی مشترکہ دباؤ کی حکمتِ عملی کو ناکام بنایا مگر یہ جنگ اختتام کو نہیں پہنچی۔ یہ اب اگلے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ جدید دور میں سب سے خطرناک جنگ وہ ہوتی ہے جس کا اعلان کبھی نہیں کیا جاتا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران نے اس ایران میں چکی ہے رہی ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار