امریکی جنگی طیارے گرین لینڈ کیوں پہنچے؟ وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
امریکی اور کینیڈین دفاعی ادارے نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی جنگی طیاروں کی گرین لینڈ میں تعیناتی کا عمل شروع ہوگیا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حملے کی دھمکیوں اور گرین لینڈ پر امریکی جھنڈا لہرانے کے اے آئی سے بنی تصویر شیئر کرنے کے بعد اب امریکی فوجی طیاروں کی گھن گھرج گرین لینڈ کے اوپر سنی جا سکتی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فوج کے جنگی طیاروں کی پرواز اب گرین لینڈ میں واقع امریکی فوجی اڈے کی جانب ہے۔ امریکی اور کینیڈین دفاعی ادارے نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی جنگی طیاروں کی گرین لینڈ میں تعیناتی کا عمل شروع ہوگیا۔ دفاعی ادارے نوراڈ نے وضاحت کی ہے کہ امریکی فوجی طیاروں کی یہ تعیناتی پہلے سے طے شدہ دفاعی منصوبہ بندی کا حصہ ہے اور معمول کی کارروائی کی ہے۔
نوراڈ کا مزید کہنا ہے کہ اس عمل میں ڈنمارک حکومت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی موجود ہے اور امریکی فورسز کو تمام ضروری سفارتی اجازت نامے حاصل ہیں۔ دفاعی حکام کے مطابق یہ طیارے شمالی امریکا کے دفاع اور معمول کی نگرانی کی سرگرمیوں میں حصہ لیں گے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ناروے کے وزیرِاعظم یوناس گاہر اسٹورے کو بھیجے گئے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ جب تک امریکا کو گرین لینڈ پر مکمل اور حتمی کنٹرول حاصل نہیں ہوگا، عالمی سلامتی کو خطرات لاحق رہیں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس پیغام کی تصدیق ناروے کے وزیرِاعظم کے دفتر نے بھی کی ہے۔
خیال رہے کہ ٹرمپ اس سے قبل ڈنمارک پر الزام عائد کر چکے ہیں کہ وہ گرین لینڈ کے حوالے سے روسی خطرات سے نمٹنے میں ناکام رہا ہے۔ دوسری جانب ڈنمارک اور گرین لینڈ نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کو دہرایا ہے کہ ہماری سرزمین نہ تو فروخت کے لیے ہے اور نہ ہی اسے دوسرے ملک کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ دونوں فریقوں نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے ڈنمارک کی خودمختاری اور گرین لینڈ کے خودمختار نظام کی توثیق کی ہے۔ گرین لینڈ جغرافیائی طور پر دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اور ڈنمارک کی بادشاہت کے اندر ایک خودمختار علاقہ ہے۔ سنہ 1951 میں امریکا اور ڈنمارک کے درمیان گرین لینڈ دفاعی معاہدہ طے پایا، جس کے تحت امریکا نے گرین لینڈ کو ممکنہ بیرونی جارحیت سے بچانے کی ذمہ داری لی تھی۔
جس کے بعد 1958 میں امریکا اور کینیڈا نے سرد جنگ کے آغاز پر نوراڈ کے نام سے مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا، جس کا بنیادی مقصد بیلسٹک میزائلوں کی بروقت نشاندہی اور شمالی امریکا کا فضائی دفاع ہے۔ گرین لینڈ میں واقع پٹوفک اسپیس بیس (سابقہ تھولے ایئر فورس بیس) امریکا کے اہم فوجی اور مواصلاتی مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں میزائل وارننگ سسٹم بھی نصب ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گرین لینڈ میں طیاروں کی ہے اور
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔