کروڑوں کی جائیداد رکھنے والے خاموش بھکاری کی حیران کن کہانی
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
بھارت میں گداگری سے جڑی ایک چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی ہے، جہاں اندور کے مصروف بازار میں بیٹھنے والا ایک معذور بھکاری درحقیقت کروڑ پتی نکلا۔
ظاہری طور پر سادہ زندگی گزارنے والا یہ شخص منگی لال نہ کسی سے بھیک مانگتا تھا اور نہ ہی آواز دے کر توجہ حاصل کرتا تھا، بلکہ لوگ خود ہی اسے امداد دے دیا کرتے تھے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق منگی لال روزانہ لوہے کی ایک ریڑھی پر خاموشی سے بیٹھا رہتا اور عام دنوں میں اسے بھیک سے چار سے پانچ سو روپے تک کی رقم مل جاتی تھی۔ تاہم اصل انکشاف اس وقت ہوا جب حکومت کی انسدادِ گداگری مہم کے دوران اس کے مالی معاملات کی جانچ پڑتال کی گئی۔
تحقیقات میں پتا چلا کہ منگی لال کی آمدن صرف بھیک تک محدود نہیں تھی۔ وہ دن میں ملنے والی رقم کو رات کے وقت بازار کے تاجروں کو ایک دن یا ایک ہفتے کے لیے سود پر دے دیتا تھا اور باقاعدگی سے اس پر سود وصول کرتا تھا، جو اس کی اصل کمائی کا ذریعہ بن چکا تھا۔
مزید چھان بین کے بعد حکام پر یہ حقیقت بھی آشکار ہوئی کہ منگی لال کے پاس تین ذاتی مکانات، تین آٹو رکشے اور ایک کار موجود ہے۔ اس کے آٹو رکشے کرائے پر چلتے ہیں جبکہ کار کے لیے اس نے مستقل ڈرائیور بھی رکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ معذوری کی بنیاد پر اسے سرکاری رہائش بھی الاٹ کی گئی تھی۔
حکام نے کروڑوں کے اثاثے سامنے آنے کے بعد منگی لال کو شیلٹر ہاؤس منتقل کر دیا ہے، جبکہ اس معاملے کو انسدادِ گداگری پالیسی کے تحت مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: منگی لال
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی