حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی پالیسی کا بھانڈا پھوٹ گیا، ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز کی حالیہ رپورٹ میں حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی پالیسی کا بھانڈا پھوڑ دیا گیا ہے اور انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں تعلیم کے حصول پر مجموعی اخراجات 500 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں مگر اس کا بڑا بوجھ اب حکومت نہیں بلکہ عام پاکستانی خاندان اٹھا رہے ہیں اور ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ پالیسی سائنسز کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ملکی تاریخ میں پہلی بار گھریلو اخراجات حکومتی تعلیمی بجٹ سے بڑھ گئے ہیں، پندرھویں ایڈیشن کی رپورٹ کے مطابق ڈھائی کروڑ بچے آج بھی اسکول سے باہر ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تعلیم کے حصول کے لیے عوام 280 ارب روپے جبکہ حکومتی سرمایہ کاری 220 ارب روپے رہ گئی ہے یعنی تعلیم کا 56 فیصد بوجھ عوام اور صرف 44 فیصد ریاست اٹھا رہی ہے، والدین ایک ہزار 310 ارب روپے نجی اسکولوں کی فیس کی مد میں اور 613 ارب روپے کوچنگ اور ٹیوشن اور 878 ارب روپے دیگر ذاتی تعلیمی اخراجات پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔
پالیسی ڈائیلاگ میں آئی سیپس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمان ہمایوں نے بتایا کہ جب گھریلو اخراجات تعلیم پر سرکاری سرمایہ کاری سے بڑھ جائیں تو یہ ایک سنجیدہ مساواتی بحران کی نشان دہی کرتا ہے۔
ورلڈ بینک کی سینئر ایجوکیشن اسپیشلسٹ عزا فرخ نے کہا کہ نجی اسکولوں کا پھیلاؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ خاندان سرکاری نظام سے نکلنے کا انتخاب کر رہے ہیں۔
آئی سیپس کے ڈائریکٹر پروگرامز احمد علی کا کہنا تھا کہ نجی اخراجات میں اضافہ حکومت کے لیے ایک واضح پالیسی پیغام ہے، یہ رجحان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ سرکاری تعلیمی نظام کو مضبوط بنایا جائے، وسائل مؤثر انداز میں استعمال ہوں اور بالخصوص لڑکیوں اور محروم طبقات کے لیے مساوات کو تحفظ دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ارب روپے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔