فائل فوٹو

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات کی 2 بار کوشش کرچکے ہیں۔

راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ملاقات کے لیے 3 گھنٹے انتظار کیا مگر وہ مصروف تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ سے 2بارہ ملاقات کی کوشش کی، ڈویژن بینچ کے بعد ایک مرتبہ پھر جائیں گے، کوشش کریں گے تاریخ لے کر جائیں۔

پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں ان کا آئینی اور قانونی حق ہے، بانی پی ٹی آئی سے تین بہنوں نے ملنا ہے، باقی لوگ یہاں اظہار یکجہتی کےلیے آتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت پر الزامات نہیں لگنے چاہئیں، صوبائی حکومت کو بھی ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں، جن پر الزامات لگیں۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ جو الزامات لگاتے ہیں ان سے گزارش ہے ثبوت بھی لائیں، اپوزیشن لیڈرز کے نوٹیفکیشن کو اچھا قدم سمجھتے ہیں۔

انہوں نے حکومت سے کہا ہے کہ دونوں ہاتھ ملائیں تو بات بنے گی، حکومت مکے مارے گی تو لوگ پھر احتجاج ہی کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر پی ٹی ا ئی

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان