Jasarat News:
2026-06-02@23:15:56 GMT

ایران پر بڑھتا مغربی دباؤ اور خطے کا بدلتا منظرنامہ

اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260121-03-3

 

ایران ایک بار پھر تاریخ کے اْس نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں اندرونی بے چینی، معاشی زوال اور بیرونی دباؤ کا تکون ایران کے اسلامی انقلاب کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تہران کی سڑکوں پر ہونے والے حالیہ مظاہروں نے بیرونِ ملک موجود ایرانی اپوزیشن اور مغربی دارالحکومتوں میں یہ امید جگا دی تھی کہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد قائم ہونے والا نظام شاید اچانک اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے تاہم زمینی حقائق اس سوچ جسے اگر مغرب کی خواہش کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا کے برعکس نظر آتے ہیں۔ دراصل ایرانی عوام ماضی میں بھی مہنگائی، بے روزگاری اور سیاسی جبر کے خلاف سڑکوں پر نکلتے رہے ہیں مگر حالیہ احتجاج ایک ایسے پس منظر میں سامنے آیا ہے جب ایران کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے براہ راست اور مغربی ممالک کی جانب سے بالواسطہ عسکری، سفارتی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ ان مظاہروں کی اصل ایندھن نظریاتی نہیں بلکہ معاشی ہے کیونکہ عام ایرانی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ جوہری پروگرام یا خارجہ پالیسی نہیں بلکہ روٹی، بجلی، گیس اور روزگار ہے۔

عالمی پابندیوں نے ایرانی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ 2015 کے جوہری معاہدے کے بعد وقتی طور پر ہٹائی گئی پابندیاں جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے دوبارہ نافذ کیں تو اس کے اثرات براہِ راست عوام پر پڑے۔ 2025 میں غذائی اشیا کی قیمتوں میں 70 فی صد سے زائد اضافہ ہوا، جبکہ دسمبر میں ریال اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ ایسے میں حکومت کے خلاف عوامی غم و غصہ فطری تھا۔ اس سب کے باوجود یہ تاثر درست نہیں کہ ایرانی حکومت فوراً ختم ہونے جا رہی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سیکورٹی اداروں کی مکمل وفاداری ہے۔ پاسدارانِ انقلاب جو صرف ایک فوجی تنظیم ہی نہیں ہے بلکہ ایک معاشی اور نظریاتی قوت بھی ہے، ایران کے انقلابی نظام کا مضبوط ستون ہے۔ ڈیڑھ لاکھ سے زائد مسلح اہلکاروں پر مشتمل یہ ادارہ براہِ راست سپریم لیڈر کو جواب دہ ہے اور اس کے پاس نظام کے دفاع کے لیے طاقت، دولت اور نظریے کے تینوں اسباب موجود ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو مسلسل دھمکیاں، فوجی آپشن پر غور اور ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فی صد ٹیرف لگانے کا اعلان دباؤ کو نئی سطح پر لے گیا ہے۔ ٹرمپ کی بیان بازی کبھی مظاہرین کو امید دلاتی ہے تو کبھی تباہ کن نتائج کی دھمکی دیتی ہے جس سے خطے میں بے یقینی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران کا سب سے بڑا تیل خریدار چین ہے اور چین کے ساتھ امریکا کے تعلقات خود نازک توازن پر قائم ہیں۔ ایسے میں ایران کے معاملے پر چین کو دیوار سے لگانا واشنگٹن کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ اسی طرح عراق، ترکی اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک بھی ایران کے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں۔ اس صورتحال کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں مثلاً انڈیا کے لیے ایران محض ایک تجارتی شراکت دار نہیں ہے بلکہ وسطی ایشیا اور روس تک رسائی کا اسٹرٹیجک راستہ بھی ہے۔ اگر امریکی دباؤ کے باعث انڈیا پیچھے ہٹتا ہے تو اس کا فائدہ براہِ راست چین کو ہوگا جو پہلے ہی ایران کے ساتھ اپنی شراکت مضبوط کر رہا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں ایران کے ساتھ تجارت بڑی حد تک غیر رسمی ہے، اس لیے فوری اثرات محدود ہو سکتے ہیں مگر طویل المدت علاقائی عدم استحکام پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ غیر رسمی ایندھن کی ترسیل، سرحدی تجارت اور علاقائی سلامتی سب اس بحران سے جڑی ہوئی ہیں۔

ایران کے لیے سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس نازک گھڑی میں اسے مسلم دنیا کی واضح حمایت حاصل نہیں ہے۔ گزشتہ چار دہائیوں میں ایران کی مسلکی بنیادوں پر توسیع پسندانہ پالیسیوں، پراکسی جنگوں اور عرب دنیا میں مداخلت نے اسے تنہا کر دیا ہے۔ عراق، شام، لبنان، یمن اور بحرین میں ایرانی کردار نے بہت سے مسلم ممالک کو بدظن کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب امریکا اور اسرائیل کھلے عام رجیم چینج کی بات کر رہے ہیں تو مسلم دنیا خاموش ہے۔ امام خمینی کے سیاسی وروحانی جانشین علی خامنہ ای کی قیادت میں قائم اسلامی حکومت کے مخالفین کی سب سے بڑی کمزوری قابل ِ اعتماد قیادت کا فقدان ہے۔ شاہِ ایران کے بیٹے کی محدود مقبولیت اس خلا کو پْر نہیں کر سکتی البتہ اگر اندرونی دباؤ، معاشی بحران اور بیرونی مداخلت ایک نکتے پر جمع ہو گئے تو ایرانی حکومت کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

ایران میں 46 سال سے قائم انقلابی حکومت کا خاتمہ جسے امریکا اور اس کے اتحادی رجیم چینج کا نام دے رہے ہیں امریکا کی اوّل روز سے خواہش رہی ہے۔ گزشتہ چار عشرے اس بات پر شاہد ہیں کہ امریکا نے ایران کی انقلابی حکومت کو سرنگوں کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ عراق ایران جنگ سے لیکر عرب ممالک کے ساتھ اس کی مخاصمت بڑھانے سمیت امریکا نے ہر موقع پر ایران کو زچ کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی طرح اقتصادی پابندیوں کی آڑ میں بھی اس کی معیشت کا بٹا بٹھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا گیا، اس عمل میں امریکا کو تمام مغربی ممالک کی واضح اور علی الاعلان حمایت حاصل رہی ہے۔ اس صورتحال میں امت مسلمہ نے بھی کبھی آگے بڑھ کر ایران کے سر پر ہاتھ رکھنا گوارا نہیں کیا جس کی ایک بڑی وجہ ایران کے مسلکی بنیادوں پر توسیع پسندانہ عزائم رہے ہیں۔ عراق اور افغانستان پر امریکی حملے اور جنگ کے وقت جب امریکا کے ساتھ حساب برابر کرنے کے اچھے مواقع تھے ان مواقع پر بھی ایران نے وہ حکمت عملی نہیں اپنائی جس سے وہ اسلامی دنیا کے دل جیت سکتا تھا۔ اسی طرح شام، لبنان، بحرین اور یمن میں اپنی پراکسی کے ذریعے اس نے جو کارروائیاں جاری رکھیں ان سے بھی خطے کے اسلامی ممالک شاکی رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اب جب ایران پر امریکی قیادت میں مغربی دبائو اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ یہاں طاقت کے ذریعے رجیم چینج کی اعلانیہ دھمکیاں دی جارہی ہیں تو کسی بھی اسلامی ملک کی جانب سے ایران کی حمایت میں کوئی واضح اور تونا آواز اٹھتی ہوئی نظر نہیں آ رہی ہے حالانکہ چین کی قیادت میں سعودی اور ایرانی تعلقات کی بحالی کے بعد توقع تھی کہ ایران ماضی کی اپنی ان پالیسیوں پر نظر ثانی کرے گا لیکن اس کی جانب سے اس حوالے سے کچھ زیادہ گرمجوشی نظر نہیں آئی۔ اسی طرح سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان خطے میں اسرائیل کی ممکنہ جارحیت کے تناظر میں جب گزشتہ سال دفاعی معاہدہ طے پایا جس میں اب ترکیے کی شمولیت کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں تویہ ایک سنہری موقع ہے۔

جب ایران کو بعض مسلمان ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات درست کرتے ہوئے اگر ماضی کی غلطیوں پر معافی بھی مانگنی پڑے تو یہ اس کی بقاء کو درپیش چیلنجز کے تناظر میں کوئی برا سودا نہیں ہوگا بلکہ اس کا یہ طرز عمل سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے ممکنہ دفاعی اتحاد میں شمولیت کی بنیاد بھی بن سکتا ہے لہٰذا اب بھی اگر ایران ان تینوں ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرنے کے لیے بعض عملی اقدامات اٹھائے تو شاید وہ نہ صرف اسرائیل اور امریکا کی ممکنہ جارحیت اور مغربی ممالک کے دبائو کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکے گا بلکہ اس سے تباہی اور ٹوٹ پھوٹ کے کنارے کھڑا یہ سارا خطہ محفوظ ہونے کی توقع بھی کی جا سکے گی۔

ڈاکٹر عالمگیر آفریدی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی جانب سے میں ایران ایران کے ممالک کے ایران کو رہے ہیں کے ساتھ کے لیے رہی ہے اور اس

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ

پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقات

اٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع

دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہ

سرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔

پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورک

پاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔

اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔

پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیں

رپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاری

ملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار