Express News:
2026-06-02@23:42:28 GMT

آٹھ فروری کی کال۔ ایک جائزہ

اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT

جیسے جیسے آٹھ فروری قریب آرہی ہے۔ سیاسی کھیل دلچسپ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک سوال سب پوچھ رہے ہیں کہ اس دن کیاہوگا؟ تحریک انصاف کبھی کہتی ہے کہ آٹھ فروری کی کال ہماری نہیں ہے۔ یہ کال تحریک تحفظ آئین نے دی ہے اور کبھی آٹھ فروری کے حوالے سے پروگرام بھی جاری کرتی ہے۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ اگر تحریک تحفظ آئین میں سے تحریک انصاف کو نکال دیا جائے تو باقی کچھ نہیں بچتا۔ لہذا آٹھ فروری کو کیا ہوگا، یہ تحریک انصاف کے پروگرام سے ہی پتہ چلے گا۔

جہاں تک مذاکرات کی بات ہے تو محمود خان اچکزائی نے قائد حزب اختلاف بننے کے بعد مذاکرات کے لیے جو شرائط سامنے رکھی ہیں، ان سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انھوں نے پہلی شرط ہی حکومت کے مستعفیٰ ہونے اور ایک قومی حکومت کے قیام کی رکھی ہے۔ آپ بتائیں کونسی حکومت اپنے استعفیٰ پر بات کرنے کے لیے تیار ہوگی۔ ویسے بھی جب حکومت نے استعفیٰ ہی دے دیا تو مذاکرات کرنے کی بات ہی فضول ہے ۔

اس لیے مجھے لگتا ہے کہ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔دونوں فریق بند گلی میں ہیں جہاں سے دونوں کے پاس مذاکرات کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اس لیے فی الحال اپوزیشن مزاحمت کرنے کے موڈ میں ہے، ورنہ اگر مذاکرات میں سنجیدگی ہوتی تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ غیر مشروط مذاکرات کیے جائیں گے۔ پہلے اکٹھے بیٹھا جائے گا اور مسائل کا حل تلاش کیا جائے گا۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین اس وقت ایسی پوزیشن میں ہیں کہ مذاکرات کر سکیں۔ حکومت سمجھتی ہے کہ وہ بہت مضبوط ہو چکی ہے اور اب اپوزیشن کا اس پر کوئی دباؤ نہیں۔

اسی لیے آٹھ فروری کی کال بہت اہم ہے۔ ابھی تک جو پروگرام سامنے آیا ہے، اس میں پہیہ جام ہڑتال اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال ہے۔ ویسے تو میری رائے یہی ہے کہ پنجاب میں نہ تو پہیہ جام ہڑتال کال ہوگی اور نہ ہی شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی۔پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن صرف کے پی کی حد تک ممکن ہے۔ پورے پاکستان میں ممکن نہیں ہے۔ اس لیے ایسا لگ رہا ہے کہ آٹھ فروری کو حکومت کہے گی کہ کال ناکام ہو گئی ہے، حکومت جیت گئی ہے اور تحریک تحفظ آئین کے پی میں کامیابی پر جشن منائے گی۔ ویسے تو آٹھ فروری کو اتوار ہے۔ کئی مارکیٹیں اور دکانیں ویسے ہی بند ہوتی ہیں۔ اس لیے ان کے روٹین میں بند ہونے کو بھی اپوزیشن اپنی جیت میں شامل کر سکے گی۔ اتوار کو ٹریفک بھی کم ہوتی ہے۔ لیکن پوری بند نہیں ہوتی۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا پورا کے پی بند کیا جائے گا؟ اس سے مراد یہی ہے کہ کیا کے پی کو آنے اور جانے والے راستے بند کر دیے جائیں گے؟ کیونکہ اس سے پہلے تحریک انصاف کی جانب سے ایسے اشارے ملے ہیں کہ کے پی کی تمام سڑکیں بند کر دی جائیں گی۔ یہ کوئی نا ممکن بات نہیں ہے۔ اگر پولیس نہ روکے تو چند لوگ بھی سڑکیں بند کر سکتے ہیں۔ وہ سڑکوں پر دھرنا دے سکتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کے پی کو بند کرنے سے تحریک انصاف کو فائد ہوگا یا نقصان؟ کیا وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کے پی بند ہونے سے دباؤ میں آئیں گی اور بانی تحریک انصاف کو رہا کرنے پر مان جائیں گے اور کم از کم رہا کرنے پر اگر نہیں مانتے تو ملاقات ہی کروادیں۔

مجھے نہیں لگتا کہ کے پی بند ہونے سے کوئی دباؤ آئے گا۔ بلکہ ایک دو دن بعد خود تحریک انصاف اور ان کی حکومت دباؤ میں آجائے گی کی سڑکیں کھولی جائیں۔ آمد و رفت بند ہو نے سے کے پی حکومت خود مشکل میں پھنس سکتی ہے۔ لوگ تنگ ہوںگے۔ کے پی کی معیشت کافی خراب ہے۔ ایسے میں حکومت خود سڑکیں بند کر دے تو اس پر تنقید شروع ہوجائے گی۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ علامتی طو رپر تو سڑکیں بند کی جا سکتی ہیں۔ لیکن مکمل بندکرنا اور لمبے عرصہ تک بند کرنا ممکن نہیں۔ پھر وہاں سیکیورٹی فورسز بھی موجود ہیں۔ وہ اپنی ضرورت کے تحت خود بھی سڑکیں کھلو اسکتی ہیں۔ اس لیے یہ کوئی قابل عمل پلان نہیں ہے۔ شائد اسی لیے ابھی تک اس کے بارے میں بات تو بہت کی گئی ہے۔ لیکن اس کا کوئی باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا۔ لیکن کیا یہی سرپرائز پلان ہے؟ بظاہر مشکل لگتا ہے۔

پھر آٹھ فروری کو کیا ہوگا؟ ڈی پی او اٹک کے دفتر میں ایک مشق ہوئی ہے۔ جس میں اس بات کی تیاری کی گئی ہے کہ اگر آٹھ فروری کو کے پی سے کوئی بڑی ریلی اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کے لیے آتی ہے تو اس کوکیسے روکا جائے گا۔اس بات کو بھولنا نہیں چاہیے کہ کراچی کے جلسے میں سہیل آفریدی یہ کہہ چکے ہیں کہ انھیں اسلام آباد کی طرف کال کے لیے بانی تحریک انصاف کے اشارے کا انتظار ہے۔ ابھی تو یہ بہانہ ہے کہ ملاقات نہیں ہو رہی، اس لیے اشارہ نہیں مل رہا۔ لیکن ایسی بات بھی نہیں۔ ملاقات نہ بھی ہو اسلام آباد کی کال دی جا سکتی ہے۔

سوال یہی ہے کہ کیا آٹھ فروری کو کیا ڈی چوک جانے کی کال دی جائے گی؟ تحریک انصا ف کے اندر بھی یہ سوچ موجود ہے کہ جب تک ڈی چوک کی کال نہیں دی جائے گی کچھ نہیں ہوگا۔ لیکن ڈی چوک کی کال کی بہت بڑی قیمت بھی ہے، سیاسی قیمت بھی ہے اور دوسری قیمت بھی ہے۔ شائد تحریک انصاف کو انداذہ ہوگیا ہے کہ وہ ڈی چوک جا کرحکومت کو گھر بھیجنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اگر ماضی کی ڈی چوک کی کال کا جائزہ لیاجائے تو تحریک انصاف کا زیادہ نقصان ہوا ہے۔ کیا پارٹی ڈی چوک کی ایک اور کال دینے کی پوزیشن میں ہے۔ مجھے نہیں لگتا۔ لوگ منگل کو اڈیالہ آنے کے لیے تیار نہیں ہیں، ڈی چوک کی کال کے لیے کیسے آئیں گے۔

بہر حال آٹھ فروری کو کیا کیا جائے۔ تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین کے لیے بھی ایک بڑا سوال ہے اگر کال ناکام ہوگئی تو بہت سیاسی نقصان ہوگا، حکومت مزید مضبوط ہوگی۔ اور بانی تحریک انصاف بھی سیاسی طو رپر کمزور ہوںگے۔ سہیل آفریدی مشکل میں ہیں۔ وہ اسٹریٹ موومنٹ کو لمبا لے کر نہیں چل سکتے۔ لوگ نتیجہ مانگتے ہیں۔ لوگ پوچھیں گے کہ کب تک یہ اسٹریٹ موومنٹ چلے گی۔ لوگ باہر بے شک نہ آئیں لیکن سوال تو پوچھیں گے۔ بالخصوص سوشل میڈیا جو تحریک انصاف نے بنایا تو سیاسی مخالفین کے لیے تھا لیکن اب خود کو بھی کھا رہا ہے۔ یہ بڑا مسئلہ ہے۔ تحریک انصاف اب خود اپنے ہی سوشل میڈیا سے تنگ ہے۔ یہ وہ جن ہے جو اب انھیں کھا رہا ہے۔  

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ا ٹھ فروری کو کیا تحریک تحفظ ا ئین تحریک انصاف کو سڑکیں بند کا کوئی جائے گی نہیں ہے جائے گا گئی ہے بھی ہے ہے اور اس لیے بند ہو کے لیے کال دی رہا ہے ہیں کہ

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ