بلوچستان میں لاپتا افراد کا مسئلہ مستقل بنیاد پر حل کردیا‘ سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں مسنگ پرسنز کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کر دیا گیا ہے۔ سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری بیان میں سرفراز بگٹی نے کہا کہ گڈ گورننس اور میرٹ کے ذریعے سے ہی ہم بلوچستان کی عوام کی محرومیوں کا ازالہ کر کے ان کو ریاست کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گورننس کی بہتری کے لیے ہم نے بلوچستان کابینہ کے اجلاس میں 2 نئے ڈویژن پشین اور کوہ سلیمان بنانے کی منظوری دے دی ہے ساتھ ہی مزید ڈویژن اور اضلاع بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ بلوچستان میں مسنگ پرسنز کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کردیا گیا ہے، مختلف لوگوں نے مسنگ پرسنز کے ایشو پر صرف سیاست چمکائی، ریاست کو مورد الزام ٹھہرایا اور ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی ہم نے پہلی دفعہ اس کا حل نکالا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس مشتبہ افراد سے تفتیش کے لیے قانونی فریم ورک موجود ہے اب لاپتا افراد کا الزام ریاست پر نہیں ڈالا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے ہم سرکاری ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق کا عمل شروع کرنے جا رہے ہیں، جعلی ڈگری ہولڈرز کے خلاف ایف آئی آر اور سخت قانونی کاروائی ہو گی، اس عمل کا آغاز ڈیرہ بگٹی اور نصیرآباد سے ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ بلوچستان میں سرفراز بگٹی
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔