سکھر،بے امنی عروج پر ڈکیتی و چوری کی وارداتوں میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260121-11-14
سکھر (نمائندہ جسارت) سکھر میں ڈکیتی و چوری کی وارداتوں میں اضافہ، موٹر سائیکلیں، لوڈر رکشا اور لاکھوں روپے لوٹ لیے گئے سکھر کے مختلف علاقوں میں ڈکیتی اور چوری کی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں نامعلوم مسلح افراد شہریوں سے موٹر سائیکلیں،لوڈر رکشا اور لاکھوں روپے نقدی چھین کر فرار ہو گئے، جبکہ ایک محفوظ کالونی گھر کے باہر کھڑا لوڈر رکشا چوری کا واقعہ بھی سامنے آیا ہے۔تفصیلات کے مطابق منا شیر مال جناح چوک کے قریب آصف میمن کی موٹر سائیکل نامعلوم چور لے اڑے، جس کا مقدمہ درج کرانے کے لیے پولیس سے رجوع کر لیا گیا ہے۔دوسری جانب تھانہ اے سیکشن کی حدود گلوب چوک کے قریب مینارہ روڈ کے رہائشی جتیش کمار سے دو نامعلوم مسلح افراد نے اسلحے کے زور پر اس کی پرائیڈر 100 سی سی موٹر سائیکل چھین لی اور موقع سے فرار ہو گئے۔اسی تھانے کی حدود میں ایک اور واردات کے دوران لبِ مہران بندر روڈ کے قریب بیراج کالونی کے رہائشی ناد علی قریشی سے دو مسلح ملزمان نے اسلحے کے زور پر اس کی 125 سی سی موٹر سائیکل چھین لی۔ادھر نیو لیبر کالونی سکھر میں مکمل باؤنڈری وال، داخلی و خارجی گیٹس اور تعینات سیکورٹی گارڈز کے باوجود محنت کش شہری شہزاد مغل کی چنچی رکشا لوڈر رات کے وقت گھر کے سامنے سے چوری ہو گیا، جو صبح غائب پایا گیا۔ واقعے نے کالونی کی سیکورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ متاثرہ شہری نے گیٹ سے رکشا باہر جانے پر اندرونی ملی بھگت کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے پولیس کے اعلیٰ حکام اور تھانہ سائیڈ ایریا کے ایس ایچ او سے فوری نوٹس، شفاف تحقیقات اور رکشا کی جلد از جلد برآمدگی کا مطالبہ کیا ہے۔مزید برآں تھانہ اے سیکشن کی حدود ملٹری روڈ پر بھی سنگین ڈکیتی کی واردات پیش آئی، جہاں سہیل ولد عبدالرحیم مہر سے دو نامعلوم مسلح افراد نے اسلحے کے زور پر سات لاکھ روپے نقد رقم چھین لی اور فرار ہو گئے۔شہریوں نے بڑھتی ہوئی وارداتوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس گشت میں اضافہ، ملزمان کی فوری گرفتاری اور لوٹی گئی املاک کی جلد بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعات کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔